Main Icon

باب :خاص وقتوں کی دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2423

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ قَالَ: " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰه التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما لقيت من عقرب لدغتني البارحة قال: " أما لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك" رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا یا رسول اللّٰه آج رات مجھے بچھو کے کاٹ لینے سے بہت ہی تکلیف پہنچی ۱؎فرمایا اگر تم شام کے وقت یہ کہہ لیتے کہ میں اللّٰه کے کامل کلموں کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوق کی شر سے تمہیں بچھو تکلیف نہ پہنچاسکتا۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مَامو صولہ ہے اور جملہ مبتداء ہے جس کی خبر پوشیدہ ہے یعنی مجھے جتنی تکلیف پہنچی بیان نہیں کرسکتا یامَااستفہامیہ ہے اور استفہام تعجب کے لیے یعنی تعجب ہے کہ مجھے کتنی تکلیف پہنچی۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ یہ دعا ہمیشہ ہی پڑھنی چاہیے،صبح کے وقت پڑھ لینے سے شام تک زہریلی چیزوں سے امن ہے اور شام کو پڑھ لینے سے صبح تک امن۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2423