- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 3071
باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3071
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى المَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهٖ ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللّٰه إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتّٰى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلٰى فِي امْرَأَتِكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن سعد بن أبي وقاص قال: مرضت عام الفتح مرضا أشفيت على الموت فأتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فقلت: يا رسول الله: إن لي مالا كثيرا وليس يرثني إلا ابنتي أفأوصي بمالي كله ؟ قال: «لا» قلت: فثلثي مالي؟ قال: «لا» قلت: فالشطر؟ قال: «لا» قلت: فالثلث؟ قال: «الثلث والثلث كثير إنك إن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس وإنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت بها حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں فتح کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا، رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم بیمار پرسی کرنے تشریف لائے ۱؎میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهمیرے پاس مال بہت ہے اور سوا میری بیٹی کے میرا وارث کوئی نہیں ۲؎تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ۳؎فرمایا نہیں میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تو آدھے کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی کی فرمایا تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے ۴؎اگر تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تو اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ ۵؎کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۶؎اور تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سےاللّٰهکی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ وہ نوالہ جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں دو۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہر بیمار کی مزاج پرسی فرماتے تھے،اس سلسلہ میں آپ کے پاس بھی تشریف لے گئے۔اَشْفَیْتُشِفَاءٌسے بنا بمعنی کنارہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَکُنۡتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ"۔اس کا استعمال اکثر مصیبت و تکلیف کے موقعہ پر ہوتا ہے ۔اَشْفَیْتُکے معنی ہوئے میں کنارۂ موت پر پہنچ گیا۔
۲؎یہاں وارث سے مراد ذی فرض وارث ہے یعنی سوائے میری بیٹی کے اور کوئی ذی فرض وارث نہیں عصبہ وارث بہت ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ وارث سے مراد کمزور وارث ہیں جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ آپ کے ذی فرض وارث بھی کئی تھے۔ (مرقات و اشعہ)
۳؎کہ سارا مال فقراء و مساکین میں تقسیم کردیاجائے یا کسی کار خیر میں لگادیا جائے بیٹی وغیرہ کسی وارث کو کچھ نہ ملے کیونکہ یہ سباللّٰهکے حکم سے غنی ہیں۔
۴؎پہلااَلثُّلُثُیا منصوب ہے یا مرفوع کہ وہ یا فاعل ہے یا مبتداء جس کا فعل یا خبر محذوف ہے یا مفعول ہے اور دوسرااَلثُّلُثُمرفوع ہی ہے کہ وہ مبتداء ہے جس کی خبر کثیر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرنے والا مرتے وقت صرف تہائی کی وصیت کرسکتا ہے زیادہ کی نہیں اور اگر زیادہ کی کر بھی گیا تو جاری نہ ہوگی،یہ بھی معلوم ہواکہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کرنا بہتر ہے کہ حضور انور نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا۔
۵؎اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حضرت سعد کے بہت وارث تھے ذی فرض صرف بیٹی تھی اور بعض وارث فقراءبھی تھے مالدار نہ تھے،یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اپنے عزیزوں سے سلوک کرنا غیروں سے سلوک کرنے سے افضل ہے کہ وصیت میں غیروں سے سلوک ہے میراث میں اپنوں سے سلوک۔خیال رہے کہاِن تذرمیںاِنْشرطیہ ہے اور خبر سے پہلےفھوپوشیدہ ہے،خیراسفھوکی خبرہے۔
۶؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ اپنی موت کے بعد وارثین کا بھیک مانگتے پھرنا اپنی ذلت کا باعث ہے اور قبر میں روحانی تکلیف کا بھی ذریعہ۔
۷؎یعنی تم وصیت کیوں کرتے ہو حصول ثواب کے لیے اور میراث جو وارثوں کو پہنچے گی اگر اس میں تم رضائے الٰہی کی نیت کرلو کہ اپنے عزیزوں کو اپنا مال پہنچنا رب تعالٰی کی رضا کا ذریعہ ہے تب بھی تم کو ثواب ملے گا بلکہ زیادہ ملے گا،لہذا وصیت تہائی سے بھی کم کی کرو۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوئے:مال جمع کرنا درست ہے اور مرتے وقت تک اسے پاس رکھنا مباح،تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نافذ نہیں ہوتی،اللّٰهکی راہ میں خرچ کرنا باعث ثواب ہے۔جب مباح میں نیت خیر کرلی جائے تو مستحب بن جاتا ہے،مؤمن کی نیت عمل سے افضل ہے،دیکھو بیوی کے منہ میں لقمہ دینا خوشی و محبت کے وقت ہوتا ہے جس میں عبادت کا احتمال بھی نہیں مگر اس پر بھی رب کا وعدہ ہے اپنے وارثوں سے عدل و انصاف کرناضروری ہے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3071