Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3073

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهٖ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَعْطٰى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهٗ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: «الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللّٰهِ»

وعن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع: «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» . رواه أبو داود وابن ماجه وزاد الترمذي: «الولد للفراش وللعاهر الحجر وحسابهم على الله»

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اپنے خطبہ میں حجتہ الوداع کے سال فرماتے سنا ۱؎کہاللّٰهنے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے لہذا وارث کے لیے وصیت نہیں ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے یہ بڑھایا کہ بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎ان کا حساباللّٰهکا ذمہ ہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ اس خطبہ سے مراد حج کا خطبہ ہے جو آپ نے عرفات میں دیا اور ہوسکتا ہے کہ کوئی اور خطبہ مراد ہو۔
۲
؎آیات میراث آنے سے پہلے اہل قرابت کے لیے وصیت کرنا ازروئے قرآن فرض تھی کہ رب نے فرمایا:"کُتِبَ عَلَیۡکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنۡ تَرَكَ خَیۡرَۨا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ"۔آیات میراث سے یہ فرضیت منسوخ ہوگئی مگر جواز وصیت کا نسخ اس حدیث سے ہوا کہ اب جسے ایک پائی میراث ملے اس کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی۔معلوم ہوا کہ قرآن کا نسخ حدیث سے جائز بلکہ واقع ہے ۔
۳
؎بیوی اور لونڈی کو فراش کہا جاتا ہے کیونکہ اسے اپنے خاوند اور مولٰی کے بستر پر لیٹنے کا حق ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگرکسی کی لونڈی یا بیوی کے بچے کے متعلق کوئی اجنبی شخص کہے کہ یہ بچہ میرا ہے تو اس کی بات نہ مانی جائے گی بچہ اس عورت کے خاوند یا مالک کا ہوگا، ہاں اس کہنے والے کو زنا کی سزا دی جائے گی کہ اس نے زنا کا اقرار کرلیا۔حجرسے مراد رجم ہے اور اگر یہ شخص اس قول سے توبہ کر لے تب بھی اسے حد قذف لگے گی یعنی پاکدامن عورت کو تہمت لگانے کی سزا۔
۴
؎اس جملہ کے کئی معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ اگر اس نے زنا کا جھوٹا اقرار کیا ہے اور ہم نے سزا دے دی تو ہم مجرم نہیں۔دوسرے یہ کہ زنا کی سزا دینے کے بعد بھی زانی کی بخشش یقینی نہیں،رب چاہے تو معاف کرے۔تیسرے یہ کہ جن گناہوں کی شریعت میں سزا نہیں ہے ان کا حساباللّٰهکے ہاں ہے ۔(مرقات،لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3073