Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3074

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَيُرْوٰى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هٰذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ»

ويروى عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة» منقطع هذا لفظ المصابيح. وفي رواية الدارقطني: قال: «لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة»

حدیث ترجمہ

اور حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے یوں راوی کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت نہیں مگر یہ کہ وارث راضی ہوں یہ منقطع ہے ۱؎یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور دار قطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں مگر جب کہ وارث راضی ہوں۲؎

شرح حدیث

۱∞؎منقطع وہ روایت ہے جس میں تابعی سے پہلے کوئی راوی رہ گیا ہو یا راوی کا نام نہ مذکور ہو بلکہرجلٌیاشیخٌکہہ دیا گیا ہو کیونکہ مجہول مثل معدوم کے ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی وارث کے لیے وصیت جائز نہ ہونا دوسرے وارثوں کے حق کی وجہ سے تھا اگر وہی اس کو جائز کردیں تو جائز ہے،یہی مسئلہ تمام آئمہ کے ہاں ہے اگرچہ اس کی ایک اسناد منقطع ہے مگر چونکہ دوسری اسنادیں متصل بھی ہیں اس لیے یہ حدیث صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3074