Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3075

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللّٰهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ» ثُمَّ قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ(مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ)إِلٰى قَوْلِهٖ (وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل ليعمل والمرأة بطاعة الله ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار» ثم قرأ أبو هريرة(من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار)إلى قوله (وذلك الفوز العظيم) رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی حضور انور نے فرمایا کہ ایک مرد و عورت ساٹھ سالاللّٰهکی اطاعت کے کام کرتے رہتے ہیں پھر انہیں موت آتی ہے ۱؎تو وصیت میں کسی کو نقصان پہنچا جاتے ہیں ۲؎ان کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۳؎پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ آیت تلاوت کی بعد ادائے قرض وصیت کے جو وہ کر گیا ہے جب کہ کسی کو نہ نقصان دیا ہو باری تعالٰی کے فرمان تک یہ بڑی کامیابی ہے ۴؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ساٹھ سال سے مراد بڑی مدت ہے خواہ اس سے زیادہ ہو یا کم۔ ساٹھ تجدید کے لیے بلکہ تکثیر کے لیے ہےاور موت آنے سے مراد موت کے علامات نمودار ہونا ہیں ورنہ خاص موت آجانے پر بولنا مشکل ہوجاتا ہے،وصیت کرنا یا وصیت میں نقصان پہنچانا کیسا۔
۲
؎وصیت میں نقصان پہنچانے کی چند صورتیں ہیں:ایک یہ کہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے وصیت کر جائے کہ تہائی مال وصیت میں نکل جائے تو وارثوں کے حصے کم ہوجائیں۔دوسرے یہ کہ نالائق اور برے لوگوں کو وصیت کرجائے،اپنا تہائی مال کسی بدمعاش کو دے جائے تاکہ وہ وارثوں کے ساتھ رہ کر انہیں تنگ کرے۔تیسرے یہ کہ پہلے وصیت کی تھی پھر مرتے وقت وصیت سے رجوع کرے یا اس میں کچھ ترمیم کرے تاکہ وصیت والے کو نقصان ہو۔غرضکہفی الوصیۃکیفییا بمعنیبہے یا اپنے ہی معنی میں ہے۔
۳
؎یعنی دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے،رہا دوزخ میں جانا یہ رب تعالٰی کی مرضی پر ہے یہاں وجوب استحقاق کا ہے نہ کہ دخول کا۔(مرقات)
۴
؎حضرت ابوہریرہ نے اس میں جو لفظغیر مضارہے اس سے دلیل پکڑی،یہاں آیت میںمضاراسم فاعل ہے یعنی مرنے والے نے وصیت میں کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3075