Main Icon

باب:وصیتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3077

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصٰى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهٗ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهٗ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ فَقَالَ: حَتّٰى أَسْأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أَبِي أَوْصٰى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأَعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ لَو كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتَمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتَمْ عَنْهُ بَلَغَهٗ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن العاص بن وائل أوصى أن يعتق عنه مائة رقبة فأعتق ابنه هشام خمسين رقبة فأراد ابنه عمرو أن يعتق عنه الخمسين الباقية فقال: حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إن أبي أوصى أن يعتق عنه مائة رقبة وإن هشاما أعتق عنه خمسين وبقيت عليه خمسون رقبة أفأعتق عنه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنه لو كان مسلما فأعتقتم عنه أو تصدقتم عنه أو حججتم عنه بلغه ذلك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ عاص ابن وائل نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں ۱؎تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کردیئے ۲؎پھر اس کے بیٹے عمرو نے چاہا کہ باقی پچاس اس کی طرف سے وہ آزاد کردیں ۳؎بولے میں تو آزاد نہ کروں گا تا آنکہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں۴؎چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں اور ہشام نے اس کی طرف سے پچاس آزاد کردیئے ہیں اور اس پر پچاس غلام باقی ہیں تو کیا اس کی طرف سے میں آزاد کردوں۵؎تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا پھر تم اسکی طرف سے آزاد کرتے اس کی طرف سے خیرات یا حج کرتے یہ سب کچھ اسے پہنچ جاتا ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ عمرو ابن شعیب کے دادا عبداللّٰهابن عمرو ابن عاص ہیں،وہ خود اپنا واقعہ بیان کررہے ہیں کہ میرے باپ عاص ابن وائل نے مرتے وقت سو غلام لونڈیاں آزاد کرنے کی وصیت کی تھی،عاص ابن وائل قرشی سہمی ہے،حضور انور کا زمانہ پایا مگر اسلام نہ لایا،اس کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ"آپ کا بدگو ابتر یعنی بے اولادا ہے کہاللّٰهنے اس کی اولاد کو اسلام کی توفیق دے کر اسے حکمًا لاولد کردیا،اس کی ساری اولاد ایمان لے آئی ۔
۲
؎ہشام قدیم الاسلام صحابی ہیں،پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے پھر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خبر سن کر مکہ معظمہ یہ پتہ کرنے آئے کہ حضور نے ہجرت کہاں کی ہے باپ نے پکڑ لیا،پھر غزوہ خندق کے بعد مدینہ منورہ پہنچے، بڑے فقیہ عالم تھے ۱۳ھ؁∞ میں غزوہ یرموک میں شہید ہوئے۔(مرقات)انہوں نے حضور انور سے بغیر پوچھے پچاس غلام آزاد کردیئے یہ سمجھ کر کہ اسلام والدین کے ساتھ احسان کرنے سے منع نہیں فرماتا۔
۳
؎حضرت ابن عمرو ابن عاص اپنے بھائی ہشام سے عمر میں بڑے ہیں،آپ ۵ھ؁∞ یا ۸ھ؁∞ میں حضرت خالد ابن ولید اور عثمان ابن طلحہ کے ساتھ ایمان لائے،حضور انور نے آپ کو تمان کا حاکم بنایا،پھر حضرت عمر کے زمانہ میں آپ نے ہی مصر فتح کیا،حضرت عمرعثمان، معاویہ کے زمانہ میں عامل رہے امیر معاویہ نے آپ کو اپنے زمانہ میں مصر میں جاگیربخشی،آپ وہاں ہی رہے، ۴۳ھ؁∞ میں ننانوے سال کی عمر میں مصر ہی میں وفات پائی،پھر ان کے بیٹے عبداللّٰہ ابن عمرو مصر کے حاکم رہے جنہیں بعد میں امیر معاویہ نے معزول کردیا۔
۴
؎یعنی اگرچہ عاص میرا باپ تھا مگر کافر بھی تھا اس لیے اس کی وصیت حضور انور سے پوچھ کر پوری کروں گا،یہ اجتہاد سے تھا مگر پہلے اجتہاد سے اعلٰی یا تو آپ نے اپنے بھائی ہشام سے یہ فرمایا یا دل میں سوچا۔
۵
؎اس سوال سے معلوم ہوا کہ نیکی بھی بزرگوں کے مشورہ اور ان کی اجازت سے کرنا چاہیے،دیکھو غلام آزاد کرنا بہرحال ثواب تھا اگر عاص کو اس کا ثواب نہ بھی ملے تب بھی خود حضرت عمرو ابن عاص کو تو ثواب ملنا ہی تھا مگر پھر بھی حضور انور سے اجازت مانگ کر آزاد کرنا چاہتے ہیں۔صوفیاء کے نزدیک ورد،وظیفے شیخ کی اجازت سے کیے جاتے ہیں کہ اجازت کی برکت سے ان میں الفاظ کی تاثیر کے ساتھ زبان کی تاثیر بھی جمع ہوجاتی ہے،گولی بارود کی مدد سے مار کرتی ہے،تلوار کی دھار بغیر درست وار کے نہیں کاٹتی۔
۶
؎مگر چونکہ عاص کافر ہوکر مرا اس لیے اسے تمہاری کسی نیکی کا ثواب نہیں پہنچ سکتا،نہ وہ عذاب الٰہی سے بچ سکتاہے۔ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کافر کو ثواب بخشنا منع ہے کہ حضور انور نے اس کی اجازت نہ دی۔دوسرے یہ کہ اگر اسے ایصال ثواب کیا بھی جائے تو ثواب پہنچتا نہیں،جب اسے اپنی نیکیوں کا ثواب نہیں ملتا تو دوسرے کی نیکیوں کا بخشا ہوا ثواب کیسے ملے گا۔مردہ کو کوئی دوا فائدہ نہیں پہنچاتی،کافر کو کوئی دعا عذاب سے نہیں بچاتی۔تیسرے یہ کہ مسلمانوں کو ہرقسم کی عبادات کا ثواب بخشنا جائز ہے اور انہیں پہنچتا بھی ہے،دیکھو غلام آزاد کرنا، صدقہ و خیرات،حج مختلف قسم کی عبادتیں ہیں مگر سب کے متعلق حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو ثواب پہنچ جاتا۔خیال رہے کہ کافر کو بعض نیکیوں کی بدولت عذاب ہلکا ہوجاتا ہے مگر عذاب سے رہائی نہیں ہوتی نہ وہ جنت کی کسی نعمت کا مستحق ہوتا ہے، دیکھو حضور انورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کے باعث ابو طالب کا عذاب ہلکا ہے، ولادت پاک کی خوشی منانے کے سبب ابولہب کو سوموار کے دن عذاب میں تخفیف ہوتی ہے ۔(بخاری شریف)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔آج بعض لوگ ایصال ثواب کے انکاری ہیں وہ ان احادیث میں غور کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3077