Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2476

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: "يَا حُصَيْنُ! كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلٰهًا ؟» قَالَ أَبِي: سَبْعَةً: سِتًّا فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّماءِ قَالَ: «فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟» قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ قَالَ: «يَا حُصَيْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ» قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌقَالَ: يَا رسولَ اللهِ عَلِّمْنِي الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي فَقَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَ أَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمران بن حصين قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي: "يا حصين! كم تعبد اليوم إلها ؟» قال أبي: سبعة: ستا في الأرض وواحدا في السماء قال: «فأيهم تعد لرغبتك ورهبتك؟» قال: الذي في السماء قال: «يا حصين أما إنك لو أسلمت علمتك كلمتين تنفعانك» قال: فلما أسلم حصينقال: يا رسول الله علمني الكلمتين اللتين وعدتني فقال: «قل اللهم ألهمني رشدي و أعذني من شر نفسي» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میر ے والد سے اے حصین تم آج کل کتنے معبودوں کو پوجتے ہو میرے والد بولے سات چھ زمین کے ۲؎اور ایک آسمان کا تو فرمایا کہ ان میں سے خوف و امید کس سے رکھتے ہو بولے اس آسمان والے سے ۳؎فرمایا اے حصین اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تمہیں دو دعائیں ایسی سکھاؤں جو تمہیں بہت فائدہ دیں ۴؎فرماتے ہیں جب حصین مسلمان ہوگئے تو عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے وہ دعائیں سکھائیے جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۵؎فرمایا یہ پڑھا کرو الٰہی مجھے میری ہدایت کا الہام کر اور مجھے میرے نفس کی شرارت سے پناہ دے ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمران،کنیت ابوالخیر ہے،خزاعی کعبی ہیں،خیبر کے سال اپنے والد حصین کے ساتھ ایمان لائے،عہدِ فاروقی میں بصرے بھیجے گئے،پھر وہاں رہ گئے،بصرےٰ ہی میں ۵۲ھ میں وفات ہوئی۔ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عمران جیسا پرہیزگار و افضل کوئی بصرہ میں نہ تھا،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے۔(کتاب الکاشف مولانا عبدالحق،از حاشیہ ا کمال)
۲
؎یعنیلَاتْ،مَنَاتْ،یَغُوْثْ،یَعُوْقْ،نسر،عُزےٰان تمام کا ذکر قرآن شریف میں ہے یہ تمام بت عورتوں کے نام پر تھے مگر چونکہ ان میں اللّٰه تعالٰی کو ساتواں معبود کہا گیا تو مؤنث نہیں ہے اس لیےسَبْعَۃٌت سے کہا جو مذکر کے لیے بولا جاتا ہے۔
۳
؎یعنی مصیبت میں فریاد،حاجت میں داد اس رب سے چاہتے ہیں جو آسمان والا ہے یعنی اللّٰه تعالٰی سے باقی یہ چھ تو اعزازی ٹمپریری(Temporary) ہیں۔ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللّٰه تعالٰی آسمان میں رہتا ہے،چونکہ ابھی یہ کافر تھے اس لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کی کسی بات کی تردید نہ فرمائی لہذا اس خاموشی سے یہ لازم نہیں کہ اسلام کا بھی یہ عقیدہ ہے۔
۴
؎سبحان اللّٰه! کیسی نفیس تبلیغ ہے کسی کو لالچ دے کر کسی کو ڈرا کر،کسی کو اپنا دیوانہ بنا کر دعوت اسلام دی،حضرت بلال کو کیا دے کر بلایا،اپنا عشق دے کر اپنا شوق دے کر،یوں کہوسب کچھ دے کر ان کا سب کچھ دکھ و درد دور کردیا۔
۵
؎یعنی حضرت حصین اس وقت تو ایمان نہ لائے مگر تیر نظر کے گھائل ہوچکے تھے اس گھاؤ نے اپنا کام کردیا،کچھ عرصہ بعد ایمان لائے تو یہ وعدہ یاد دلایا۔جھاگ لگانے کے کچھ دیر بعد دہی جمتا ہے۔
۶
؎ہر شخص کی خاص ہدایت جداگانہ ہے جو رب تعالٰی نے اس کے نصیب میں رکھی ہے،کسی کو صرف ایمان کی ہدایت،کسی کو تقویٰ کی،کسی کو عرفان کی،کسی کو عشق رحمان کی۔مقصد یہ ہے کہ مولٰی میں ایمان تو لے آیا،اب میرے نصیب میں جو مخصوص ہدایت تو نےر کھی ہے وہ عطا فرما اور میرا نفس شرارتوں کی جڑ ہے اس کی شر سے مجھے بچا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضرت حصین ہدایت تو پاچکے تھے پھر ہدایت کیوں مانگی۔ہدایت کی تحقیق اس کے اقسام ہماری تفسیر نعیمی میں"اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ"کی شرح میں ملاحظہ فرمائیے۔خیال رہے کہ شیطان کی شرارت سے نفس کی شرارت زیادہ ہے کہ شیطان تولاحولوغیرہ سے بھاگ جاتا ہے،یہ مار آستین کسی عمل سے قبضہ میں نہیں آتا ہے،صرف ر ب تعالٰی کے فضل سے آتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2476