Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2470

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُونِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «اللهم إني أعوذ بك من البرص والجذام والجنون ومن سيئ الأسقام » . رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں برص سے کوڑھ سے دیوانگی سے ۱؎اور بری بیماریوں سے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎برص یا تو جسم کے سفید داغ ہیں اور جسم میں سودا پھیل کر جو اعضاء کی اصل صورت بدل دے جس سے کبھی انگلیاں جھڑ جاتی ہیں،جسم پر پھوڑےپھیل جاتے ہیں یہ جذام ہے یعنی کوڑھ اور عقل کا جاتا رہنا یا بگڑ جاناجنون ہے،چونکہ برص و جذام میں تکلیف بھی ہے اور لوگوں کی نفرت بھی جن کی وجہ سے انسان بہت سی عبادات سے محروم ہوجاتا ہے اور عقل بگڑ جانے پر آدمی برے بھلے میں تمیز نہیں کر تا اس لیے ان بیماریوں سے پناہ مانگی۔
۲
؎جیسے استسقاء،سل،دق اور وہ لمبی بیماریاں جن میں انسان صبر نہیں کرسکتا،لوگوں پربوجھ بن جاتا ہے،لوگ اس سے گھبرا کر اس کی موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں،بندہ ان کی وجہ سے حقوق اللّٰه و حقوق العباد ادا کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔اللّٰه تعالٰی چلتے ہاتھ پاؤں اٹھالے آمین ۔خیال رہے کہ یہ دعا ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ تمام انبیاءکرام حضور سید الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ان امراض سے محفوظ ہیں۔بعض لوگ جذام کو متعدی بیماری سمجھتے ہیں یعنی اڑ کر لگنے والی،اس کی تحقیقان شاءاللّٰه"لَا عَدْویٰ"کی شرح میں ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2470