Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2475

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّ هٰذَا فَإِنَّ هٰذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذا وَقَبَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم نظر إلى القمر فقال: «يا عائشة استعيذي بالله من شر هذا فإن هذا هو الغاسق إذا وقب» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے چاند دیکھا ۱؎تو فرمایا اے عائشہ اس کی شر سے اللّٰه کی پناہ مانگو ۲؎یہ ہی وہ غائب ہوجانے والا ہے گرہن لگتے وقت ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ تیسری تاریخ کے بعد کے چاند کو قمر کہتے ہیں،اس سے پہلے ہلال کہلاتا ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہھذاسے اشارہ چاند ہی کی طرف ہے نہ کہ رات کی طرف جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے۔
۳
؎اس فرمان میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ"آیت کریمہ میںغاسقاوروقبکی بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں،غاسقرات تاریک اوروقبشفق غائب ہونا،چونکہ بہت سے گناہ چوریاں،قتل،زنا اندھیری رات میں ہی ہوتے ہیں اس لیے اس سے پناہ مانگی گئی۔غاسقچاند،کیونکہ یہ بھی سب میں چھپ کر اندھیرا پھیلا دیتا ہے اوروقبگرہن لگنا،چونکہ چاند گرہن بہت ہیبت ناک چیز ہے اوراس وقت اکثر جادو ٹونے ہوتے ہیں اس لیے اس سے پناہ مانگی،یہ حدیث پاک اسی معنی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔غاسقاوروقبکی اور بہت تفسیریں ہیں جو طوالت کے خوف سے چھوڑ دی گئیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات منحوس ہوتے ہیں،بعض سعید،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فِیۡ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ"حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی ولادت و معراج کی ساعتیں بڑی سعید و مبارک ہیں۔منحوس ساعتوں سے پناہ مانگو ا ور مبارک ساعتوں سے برکت لو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2475