Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2464

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ". رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وابنُ مَاجَه

عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " اللهم إني أعوذ بك من الأربع: من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا يسمع ". رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں چار چیزوں سے تیری پناہ لیتا ہوں ۱؎اس علم سے جو نفع نہ دے ۲؎اس دل سے جس میں عجز نہ ہو ۳؎اس نفس سے جو سیر نہ ہو ۴؎اس دعا سے جو سنی نہ جائے ۵؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎ان چار کا ذکر حصر کے لیے نہیں بلکہ اظہار اہمیت کے لیے ہے یعنی تمام نقصان دہ چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں،خصوصًا ان چاروں سے کہ ان کا نقصان بہت زیادہ ہے۔
۲
؎اس طرح کہ وہ علم ہی مضر ہو جیسے جادو وغیرہ کا علم یا غیر مفید ہو جیسے غیرضروری علوم یا علم بذات خود تو مفید ہو مگر میں اس سے فائدہ نہ اٹھاؤں جیسے علم دین جو محض دنیا کمانے کے لیے سیکھا جائے لیکن اس پر عمل نہ کیاجائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم باعمل کل ہمارا گواہ ہوگا اور علم بے عمل ہمارےخلاف گواہ ۔خیال رہے کہ کوئی علم بذاتِ خود برا نہیں بلکہ نتیجہ اور نیت کے لحاظ سے برا بن جاتا ہے،اگر کوئی علم بذات خود برا ہوتا تو پروردگار کو نہ ہوتا لہذا اس دعا سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور علیہ السلام کو بعض علوم نہ تھے۔سب سے بدتر چیزیں کفر اور جادو ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ ان کا سیکھنا کبھی فرض ہے بچنے کے لیے۔
۳
؎عاجز دل زرخیز زمین کی طرح ہے جس میں پیداوار خوب ہوتی ہو اور سخت دل اس پتھر یلے علاقہ کی طرح ہے جس میں بکھیرا ہوا بیج بیکار جاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ
۴
؎یعنی دنیا سے سیر نہ ہو جیسے استسقاء کی بیماری والا پانی سے سیر نہیں ہوتا،آخرت کی نیکیوں سے سیر نہ ہونا خدا کی رحمت ہے۔شعر
حاجتے نیست مرا سیرازیں آبِ حیات
ضاعف اللّٰه علی کل زمان عطشیہمارے حضور ہمیں دینے سے سیر نہیں ہوتے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"تو ہم ان سے لینے سے کیوں سیر ہوں۔
۵
؎یعنی بارگاھِ الٰہی میں قبول نہ ہوکیونکہ مردود دعا کبھی دعا کرنے والے کی مردودیت کی علامت ہوتی ہے۔خیال رہے کہ انبیائے کرام کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی،ہاں کبھی انہیں دعا سے روک دیا جاتا ہے،دعا سے روکنا اور ہے اور رد کرنا کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2464