Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2459

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنٰى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي كَمَا يُنَقّٰى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرِبِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کہتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں سستی سے ، بڑھاپے سے ،قرض سے اور گناہ سے ۱؎الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں آگ کے عذاب سے،آگ کے فتنہ سے ۲؎اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے ۳؎اور مالداری اور فقیری کے فتنہ سے ۴؎اور مسیح دجال کے فتنوں سے،اللّٰه میری خطائیں دھو دے برف کے اولے کے پانی سے ۵؎اور میرا دل ایسا صاف کردے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے ۶؎اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسا فاصلہ کردے جیسے پورب و پچھم کے درمیان ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سستی سے مراد عبادات اور نیک اعمال کا طبیعت پر گراں ہوجانااور بڑھاپے سے وہ حالت مراد ہے جب انسان کی عقل کٹ جائے، قوتیں جواب دے جائیں،دوسروں پر بوجھ بن جائیں۔شعر
دانت گرے اور کهُر گھسے اور پیٹھ بوجھ نہ لے
ایسے بوڑھے بیل کو کون باندھ بھس دے
اللّٰہ تعالٰی ا پنے اور اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہی کا محتاج رکھے۔
۲
؎کفار آگ میں معذّب ہوں گے مؤمن گنہگار معذب نہ ہوں گے بلکہ مؤدب و مہذب ہوں گے یعنی انہیں آگ کے ذریعہ پاک و صاف کرکے جنت کے لائق بنایا جائے گا ۔آگ کے فتنہ سے مراد وہ گناہ ہے جو آگ میں جانے کا باعث بنا لہذا کلام میں تکرار نہیں، آگ کا عذاب اور ہے آگ کا فتنہ کچھ اور۔
۳
؎یعنی اے مولٰی اس سے بھی تیری پناہ کہ قبر کے سوالات کے جوابات مجھے بن نہ پڑیں اور اس سے بھی تیری پناہ کہ وہاں فیل ہوجانے پر سزا پاؤں۔
۴
؎شیخی غفلت اور سرکشی،گناہوں کی طرف میلان،مال و عزت پر پھول جانا غنی کا فتنہ ہے۔مالداروں پر حسد،طمع ذلت،فکر، فقیری کے فتنے،اللّٰه تعالٰی دونوں قسم کے فتنوں سے بچائے۔خیال رہے کہ نہ امیری بُری ہے نہ فقیری،دونوں جنابِ مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے جلوے ہیں،بلکہ ان کے فتنہ برے ہیں۔ مصرع فقرو شاہی وارداتِ مصطفےٰ است
اس میں اختلاف ہے کہ فقیری افضل ہے یا امیری۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بعض کے لیے فقیری افضل ہے،بعض کے لیے امیری، جس کے ذریعہ یا رملے وہ ہی بہتر،بعض بیماروں کو کڑوی دوا مفید ہوتی ہے بعض کو میٹھی،یہ تمام دعائیں اُمت کی تعلیم کے لیے ہیں،اللّٰه تعالٰی نے اپنے حبیب کو ہر فتنہ سے محفوظ فرمایا تھا،آپ کا فقر بھی اکسیر تھا اور غنا بھی۔صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
۵
؎خطاؤں کو دوزخ کی آگ قرار دیا اور مغفرت و رحمت کو برف کا پانی،جو آگ بجھا بھی دے اور اس جگہ کو ٹھنڈا بھی کردے یعنی مجھے قسم قسم کی رحمتوں و مغفرتوں کے ذریعہ دوزخ کے اسباب سے پاک و صاف کردے۔
۶
؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ ہمارے دل فطرۃً میلے ہوتے رہتے ہیں تیری رحمت ہو تو صاف ہوجائیں اور جیسے میلے کپڑے والا اچھوں میں بیٹھنے کے لائق نہیں ہوتا،جب کپڑے صاف ہوجائیں تو اچھی جگہ اُٹھ بیٹھ سکتا ہے،خدایا ایسے ہی ہم تیری جنت کے لائق بذات خود تو نہیں ہاں تو کرم کردے تو ہوجائیں،یہ سب امت کو تعلیم ہے۔
۷
؎یعنی جو خطا مجھ سے ہوچکی ہے انہیں معاف فرماکر مجھ سے دور کردے اور آئندہ جو خطائیں مجھ سے سرزد ہوسکتی ہیں ان سے بچالے جسے مشرق ومغرب آپس میں نہیں مل سکتے ایسے ہی وہ خطائیں مجھ تک نہ پہنچ سکیں ایسا فضل کردے ،لہذا خطاؤں سےمراد واقعی و امکانی دونوں خطائیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2459