Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2478

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ اللّٰهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الْجَنَّةُ: اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ: اَللّٰهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من سأل الله الجنة ثلاث مرات قالت الجنة: اللهم أدخله الجنة ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار: اللهم أجره من النار " رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اللّٰه سے تین بار جنت مانگے تو جنت کہتی ہے الٰہی اسے جنت میں داخل فرمادے اور جو تین بار آگ سے پناہ مانگے تو آگ کہتی ہے الٰہی اسے آگ سے امان دے دے ۱؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو روزانہ صبح و شام یا دن میں ایک بار یا عمر میں ایک بار تین دفعہ یہ کہے"اللّٰهُمَّ ادْخِلْنِی الْجَنَّۃَ" اور تین دفعہ یہ کہہ لے"اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ"تو خود جنت اس کے لیے داخلہ کی دعا کرے گی اور خود دوزخ اپنے سے پناہ کی بارگاہ الٰہی میں عرض کرے گی۔حق یہ ہے کہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،جنت کے درو دیوار،برگ و بار،وہاں کے حور و غلمان و فرشتے سبھی اس لیے دعا کرتے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَ تَقُوۡلُ ھَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ" آگ کہے گی اے خدا مجھے اور زائد کردے اور فرماتا ہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"ہر چیز رب تعالٰی کی تسبیح وتمحید کرتی ہے،حضور علیہ السلام سے پتھروں،لکڑیوں نے کلام کیا لہذا نہ تو یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ جنت بزبان حال کہتی ہے اور نہ یہ کہ وہاں کے حورو غلمان و ملائکہ کہتے ہیں۔(لمعات و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2478