Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2479

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْقَعْقَاعِ: أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهٗ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰه الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللّٰه التامَّاتِ الَّتِي لَا يُجاوزُهنَّ بَرٌّ وَلَا فاجرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللّٰهِ الْحُسْنٰى مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وبَرَأَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

عن القعقاع: أن كعب الأحبار قال: لولا كلمات أقولهن لجعلتني يهود حمارا فقيل له: ما هن؟ قال: أعوذ بوجه الله العظيم الذي ليس شيء أعظم منه وبكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر وبأسماء الله الحسنى ما علمت منها وما لم أعلم من شر ما خلق وذرأ وبرأ. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قعقاع سے کہ جناب کعب احبار فرماتے ہیں ۱؎کہ اگر میں تین کلمات نہ کہہ لیتا ہوتا تو یہود تو مجھے گدھابنا دیتے ۲؎ان سے عرض کیا گیا وہ کیا ہیں فرمایا پناہ لیتا ہوں میں اللّٰه کی عظمت والی ذات کی جس سے بڑی کوئی چیز نہیں ۳؎اور اللّٰه کے پورے کلموں کی جن سے کوئی نیک کار و بدکار آگے نہیں بڑھ سکتا اور اللّٰه کے اچھے ناموں کی جو مجھے معلوم ہیں اور معلوم نہیں ان تمام کی شر سے جنہیں رب نے پیدا کیا پھیلایا اور ٹھیک کیا ۴؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎قعقاع تابعی ہیں،کعب احبار یہود کے بڑے عالم تھے،انہوں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،زمانہ فاروقی میں ایمان لائے لہذا دونوں حضرات تابعی ہیں۔
۲
؎یعنی میرا اسلام یہود پر اتنا گراں ہے اور وہ میرے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ اگر میرے پاس یہ عمل نہ ہوتا تو جادو گر یہودی اپنے جادو کے زور سے میری شکل یا میری عقل گدھے کی سی کر دیتے۔خیال رہے کہ جادو سے عقل بھی خراب کی جاسکتی ہےاور اگر جادو قوی ہو تو شکل بھی بدل جاتی ہے،فرعون کے جادوگروں نے رسّوں اور بلّوں کو سانپ بنادیا تھا مگر حقیقت تبدیل نہیں ہوتی،بعض شعبدہ باز مٹی کو روپیہ بنادیتے ہیں مگر پھر پیسہ پیسہ لوگوں سے مانگتے ہیں اور معجزہ میں حقیقت تبدیل ہوجاتی ہے عصائے موسوی واقع میں سانپ بن جاتا تھا اس کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔(از مرقات و لمعات)
۳
؎یعنی میں اللّٰه کی ذات اور اس کے ان کلموں کی پناہ لیتا ہوں کہ جسے ان کی حفاظت نصیب ہو جائے وہ ہر برے بھلے کے شر سے بچ جائے ان کے حصار کو نہ توڑ سکے۔برے سے مراد شیاطین ہیں اور بھلے سے مراد انسان کہ یہ بذات خود تو بھلا ہے مگر اس میں کبھی شر پیدا ہوجاتی ہے،کلمات اللّٰه کے معنے بار ہا بیان کیے جاچکے۔
۴
؎اس دعا میں اللّٰه تعالٰی کی ذات اور اللّٰه کے کلمات یعنی آیاتِ قرآنیہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور اللّٰه تعالٰی کے ناموں کی پناہ لی گئی ہے۔معلوم ہوا کہ ماسوی اللّٰه کی پناہ لینا جائز ہے،خَلَقَ،ذَرَءَاوربَرَءَتینوں قریب المعنے ہیں،عدم سے وجود بخشنا خلق ہے، موجودات کو عالم میں پھیلاناذَرَءَاور ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق صورت و سیرت بخشنابَرَءَ۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2479