Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2473

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرْقِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًارَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى وَالْغَمِّ

وعن أبي اليسر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو: اللهم إني أعوذ بك من الهدم وأعوذ بك من التردي ومن الغرق والحرق والهرم وأعوذ بك من أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأعوذ بك من أن أموت في سبيلك مدبرا وأعوذ بك من أن أموت لديغارواه أبوداود والنسائي وزاد في رواية أخرى والغم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالیسر سے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ دعا مانگا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں عمارت گرنے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اوپر سے گرجانے اور ڈوب جانے جل جانے ۱؎اور بڑھاپے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ شیطان مجھے وسوسے دے موت کے وقت ۲؎اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تیری راہ میں پیٹھ پھیرتا مروں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ سانپ سے ڈسا ہوا مروں۳؎(ابوداؤد،نسائی )اور دوسری روایت میں یہ زیادتی ہے کہ غم سے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ یہ چاروں قسم کی موتیں شہادت ہیں مگر چونکہ ناگہانی آفتیں بھی ہیں جن میں انسان مبتلا ہو کر کبھی گھبرا کر ایمان کھو بیٹھتا ہے اور ان سے موت ناگہانی بھی ہے جن میں توبہ اور تیاری موت کی مہلت نہیں ملتی اس لیے ان سے پناہ مانگی جیسے جہاد عبادت ہے مگر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے امن و عافیت کی دعائیں مانگی ہیں اور ہر بیماری میں اجر ہےمگر سرکار نے اس سے پناہ مانگی (از لمعات)
۲
؎بڑھاپے سے مراد برابڑھاپا ہے جس میں مت کٹ جاتی ہے۔خبط سے مراد ہے دیوانگی یا بے عقلی،شیطان کا زیادہ زور موت کے وقت ہوتا ہے کیونکہ اسی پر اعمال کا مدار ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان دیوانگی اور بیماریاں انسان میں پیدا کرسکتاہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطَانُ مِنَ الْمَسِّ"لہذا حضرات انبیاءکرام و اولیاءاللّٰہباذن پروردگار شفا بھی دے سکتے ہیں۔
۳
؎یہ دعا بھی تعلیم امت کے لیے ہے ورنہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم جہاد میں پیٹھ پھیرنے اور وفات کے وقت شیطان کی مس سے محفوظ ہیں۔لَدِیْغْہر زہریلے جانور کے کاٹے ہوئے کو کہتے ہیں بچھو ہو یا سانپ۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس موت سے پناہ مانگی ہے لہذا وہ واقعہ اس دعا کے خلاف نہیں جو طبرانی نے سیدنا علی مرتضٰی سے نقل کیا کہ ایک بار حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بچھو نے کاٹ لیا تو آپ نے اس پر پانی اور نمک لگایا اور سورۂ کافرون،فلق و ناس دم کی۔(مرقات)
۴
؎غم سے مراد وہ دنیوی سخت تکلیف ہے جو فکرِ آخرت سے روک دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2473