Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2458

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلْعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والجبن والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال»
(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتاہوں،رنج و غم سے عاجزی و سستی سے اور بزدلی و کنجوسی سے،قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۱؎(مسلم،بخاری)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ان الفاظ کی شرح اور رنج و غم کا فرق پہلے باب میں عرض کیا گیا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ قرض کی فکر عقل خراب کردیتی ہے۔ حدیث شریف میں "اَلدَّیْنُ شَیْنُ الدِّیْنِ"قرض دین کا عیب ہے۔(مرقات) لوگوں سے مراد ظالم یا قرض خواہ ہیں۔یہ دعا بھی بہت جامع ہے کہ اس میں خارجی داخلی مصیبتوں اور جسمانی روحانی اذیتوں سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔
۲
؎اس حدیث کو ابوداؤد،ترمذی،نسائی نے بھی روایت کیا،حصن حصین شریف میں یہ حدیث صرف بخاری کی قرار دی۔واللّٰه اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2458