Main Icon

باب: تعویذوں کے بارے میں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2474

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللّٰهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلٰى طَبْعٍ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

وعن معاذ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: استعيذوا بالله من طمع يهدي إلى طبع رواه أحمد والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اللّٰه کی پناہ مانگو اس طمع سے جو مہر لگ جانے تک پہنچادے ۱؎(احمد،بیہقی دعوات الکبیر)

شرح حدیث

۱∞؎"طمع" کے لفظی معنے ہیں لوگوں سے مال کی امید ر کھنا اور طبع لوہے کی وہ زنگ ہے جو اسے مٹی بنادے(اشعہ)مگر یہاں طمع سے مراد نفس کا اپنی خواہشات میں محو ہوجانا ہے اورطبعسے مراد وہ عیب ہیں جو زائل نہ ہوسکیں یعنی خدایا مجھے اس دنیوی حرص سے بچالے جو حریص کو ذلیل کردیتی ہے اور اسے ذلت کا احساس بھی نہیں ہوتا،طبع مہر لگانے کو بھی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "بَلْ طَبَعَ اللّٰہ عَلَیۡھَا"ظاہری گناہ کبھی دل پر مہر لگ جانے کا باعث بن جاتے ہیں خصوصًا حرص ِ
دنیا،مہر لگنے سے انسان برے بھلے میں تمیز نہیں کرتا۔حرص کا انجام یہ ہی ہے کہ حریص اچھا برا، حلال حرام ہر طرح کا مال رگڑ جاتا ہے،یہ شخص کتے سے بدتر ہے کہ کتا سونگھ کر چیز میں منہ ڈالتا ہے مگر یہ بغیر سوچے ہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2474