Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2390

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعنهُ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهٗ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهٗ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهٖ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

وعنه قال: قال أبو بكر: قلت يا رسول الله مرني بشيء أقوله إذا أصبحت وإذا أمسيت قال: «قل اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السماوات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه قله إذا أصبحت وإذا أمسيت وإذا أخذت مضجعك».رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت ابوبکر نے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں صبح شام کے وقت پڑھ لیا کروں ۱؎فرمایا یوں کہا کرو اے اللّٰه اے کھلی،چھپی چیزوں کے جاننے والے،اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے،اے ہر چیز کے رب و مالک۲؎میں گواہی دیتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں اپنے نفس کی شرارت اور شیطان کی شرارت اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۳؎جب صبح پاؤ جب شام پاؤ جب اپنے بستر پر لیٹو یہ پڑھ لیا کرو۔ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎بطور وظیفہ جو میرے لیے دین و دنیا میں مفید ہو۔اس سوال سے معلوم ہوا کہ وظیفے شیخ سے پوچھ کر اور شیخ کی اجازت سے پڑھنے چاہئیں کہ اس میں الفاظ کی تاثیر کے ساتھ زبان کی تاثیر بھی جمع ہوجاتی ہے،جب صدیق اکبر جیسی ہستی کو اجازت کی ضرورت ہے تو ماو شما کس شمار میں ہیں۔
۲
؎خلقبمعنی پیدا کرنا اورفطرکے معنے ہیں بغیر مثال کے پیدا فرمانا یعنی ایجاد کرنا،رب تعالٰی آسمانوں کا خالق بھی ہے اور فاطر بھی،ہمارا خالق ہے فاطر نہیں کیونکہ ہم سے پہلے بہت سے انسان پیدافرماچکا ہے۔مالكبمعنی ملکیت والا اورملیكکے معنی میں ہرطرح مالکیت والا ظاہر کا بھی باطن کا بھی،ہم لوگ اپنی چیزوں کے مالک تو ہیں مگر ملیک نہیں ہماری ملکیت صرف ظاہر پر ہے وہ بھی چند روز۔
۳
؎خیال رہے کہ ہمارے نفس امارہ کی شرارتیں شیطان کے شر سے کہیں زیادہ ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کا دل معدن اسرار ہے اور منبع اشرار شیطان تو فقط نفس کو رائے دیتا ہے،اصل سرکش نفس ہی ہے۔نیز شیطانلاحولوغیرہ سے بھاگ جاتا ہے مگر یہ نفس نہ کسی وظیفہ سے بھاگے نہ کسی عمل سے یہ تو صرف رب تعالٰی کے فضل سے ہی دبتا ہے اسی لیے اس افصح الفصحاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نفس کا ذکر پہلے فرمایا اور شیطان کا بعد میں۔خیال رہے کہ یہ ذکر ہمارے اپنے نفسوں کا ہے،نفس صدیقی جو اللّٰه کی مہربانی اور اس کے حبیب کے کرم سے نورانی ہوچکا تھا وہ تو صدق و صفا کی کان ہے،حضور سنا رہے ہیں حضرت صدیق کو اور بتارہے ہیں ہم کو۔شرک میں دو احتمال ہیں:شکا زیر اوررکا جزم بمعنی کفر ایمان کا مقابل اورشور،دونوں کا زبر بمعنی شکاری کا جال۔(لمعات،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2390