Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2413

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَسْمَعُكَ تَقُولُ كُلَّ غَدَاةٍ: «اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اَللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» تُكَرِّرُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: قلت لأبي: يا أبت أسمعك تقول كل غداة: «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» تكررها ثلاثا حين تصبح وثلاثا حين تمسي فقال: يا بني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو بهن فأنا أحب أن أستن بسنته. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے عرض کیا ابا جان میں آپ کو ہر صبح یہ کہتے سنتا ہوں۲؎الٰہی مجھے میرے بدن میں عافیت دے،الٰہی مجھے میر ے کانوں میں عافیت دے،الٰہی مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے۳؎تیرے سوا کوئی معبود نہیں اسے تین بار مکرر کرتے جب سویرا ہوتا اور تین بار جب شام ہوتی ۴؎فرمایا اے بیٹے میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ دعائیں مانگتے سنا تو میں بھی چاہتا ہوں کہ اس سنت کی پیروی کرو ں۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ابوبکرہ کا نام نفیع ابن حار ث ہے،آپ طائف کی فتح کے دن کفار طائف سے بچتے ہوئے ایک کنوئیں کی چر خڑی سے لٹک کر قلعہ طائف سے باہر آگئے اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم ابوبکرہ ہو یعنی چرخڑی والے۔بکرہ عربی میں کنوئیں کی چر خڑی کو کہتے ہیں۔آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے بیٹے عبدالرحمن تابعین میں سے ہیں۔
۲
؎معلوم ہوا کہ نیک بچے اپنے ماں باپ کے ہرعمل کو بغور دیکھتے سنتے ہیں اور ان کی عبادتوں دعاؤں کو یاد کرکے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔باپ کو چاہیے کہ اچھا نمونہ بنیں کہ اولاد ان کی نقال ہے،بچوں کا پہلا مدرسہ ان کا گھر ہے اور پہلے معلم ان کے ماں باپ۔
۳
؎اگرچہ بدن میں کان و آنکھ بھی آگئے تھے مگر چونکہ زیادہ ا چھے برے اعمال ان دو اعضاء سے ہوتے ہیں،نیز آنکھوں سے آٓیات الہیہ دیکھی جاتی ہیں اور کانوں سے آیات قرآنیہ سنی جاتی ہیں اس لیے ان دونوں اعضاء کا ذکر علیحدہ فرمایا اور بمقابلہ آنکھ کے کان زیادہ کار آمد ہیں کہ آنکھ صرف سامنے کو دیکھتی ہے مگر کان ہر طرف کی آواز سنتا ہے اس لیے کان کا ذکر پہلے ہوا آنکھ کا بعد میں،کوئی پیغمبر کان سے معذور نہ ہوئے۔
۴
؎یعنی نماز فجر و مغرب کے بعد آپ یہ دعا تین تین بار پڑھتے ہیں،ان دو وقتوں کی خصوصیت اور اکثر دعاؤں وظیفوں کے تین بار ہونے کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔
۵
؎یعنی میں ثواب کی نیت سے یہ کلمات پڑھتا ہوں کہ انکا پڑھنا سنت ہے اور ہر سنت پر عمل ثواب،مجھے اس سے بحث نہیں کہ ان کی تاثیر کیا ہے اور ان کی تاثیر کیا ہے اور ان سے دوسرے فوائد کیا ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام ذکر اور وظیفے پڑھنے کا ثواب اجازت پر موقوف نہیں وہ ضرور ملے گا کہ اللّٰه کا ذکر ثواب ہے اور جو وظیفے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں ان کا دہرا ثواب ہے ایک ذکر خیر کا ثواب دوسرا اداء سنت کا،رہی ان کی تاثیر اس کے لیے اجازت بہت ہی مفید ہے بغیر اجازت بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے مگر اجازت سے تاثیر بہت بڑھ جاتی ہے،تلوار چاقو کسی کی سان پر چڑھا ہوا خوب کاٹ کرتے ہیں،یہ دعائیں تلوار ہیں بزرگوں کی اجازت ان کی سان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2413