Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2393

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلّٰى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ: " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مَا شَاءَ اللّٰه كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهٗ مَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ حَتّٰى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ حَتّٰى يُصْبِحَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن بعض بنات النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلمها فيقول: " قولي حين تصبحين: سبحان الله وبحمده ولا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شيء قدير وأن الله قد أحاط بكل شيء علما فإنه من قالها حين يصبح حفظ حتى يمسي ومن قالها حين يمسي حفظ حتى يصبح ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بعض صاحبزادیوں سے ۱؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم انہیں سکھاتے تھے کہ فرماتے تھے صبح کے وقت یہ کہہ لیا کرو اللّٰه پاک ہے اسی کا شکر ہے اللّٰه کے بغیر قوت نہیں جو اللّٰه نے چاہا ہوا اور جو نہ چاہا نہ ہوا ۲؎میں جانتا ہوں کہ اللّٰه ہر چیز پر قادر ہے اور اللّٰه کا علم ہر چیز کو گھیرے ہے جوصبح کے وقت یہ کہہ لے گا تو شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی اور جو شام کے وقت یہ کہے گا تو صبح تک اس کی حفاظت ہوگی ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضور علیہ السلام کی صاحبزادیاں چار ہیں:زینب،رقیہ،ام کلثوم،فاطمہ،تمام نے حضور علیہ السلام کو جوانی میں دیکھا ہے،سب کی شادی خود کی ہے، یہاں حضرت فاطمہ زہرا یا حضرت زینب وغیرہا مراد ہیں،چونکہ تمام صاحبزدیاں متفقہ طیبہ طاہرہ ہیں اس لیے ان کا نام معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں۔
۲
؎سبحان اللّٰه! کیسی پیاری حمد ہے یعنی اللّٰه نے جس چیز کا ہونا چاہا وہ ہوگئی اور جس کا ہونا نہ چاہا وہ نہ ہوئی اور چاہنے نہ چاہنے میں اس کی صدہا حکمتیں ہیں کیونکہ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور برائیوں کو چاہنا اچھائیوں کو نہ چاہنا اس کی شان سے بعید ہے۔خیال رہے کہ ارادہ،رضاء،مشیت میں فرق ہے۔رب تعالٰی ہر اچھی بری چیز کا خالق ہے اور ہر چیز اس کے ارادہ سے ہے مگر برائیوں سے راضی نہیں،کفار کا کفر،گنہگار کے گناہ رب تعالٰی کے ارادہ سے ہیں مگر اس کی رضا سے نہیں،یہاں مشیت بمعنی ارادہ ہے یعنی ہر چیز کا وجود اس کی خلق و ارادہ سے ہے۔
۳
؎حصن حصین شریف میں ہے کہ ابو داؤد،نسائی،ابن سنی نے عمل الیوم اللیلہ میں عبدالحمید مولی بنی ہاشمعن امہ عن بعض بنات النبیہے، عبدالحمید کی والدہ کا نام معلوم نہ ہوسکا غالبًا یہ صحابیہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2393