Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2410

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ اَللّٰهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهٗ وَإِلٰهَ كُلِّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أخذ مضجعه من الليل قال: «الحمد لله الذي كفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من علي فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شيء ومليكه وإله كل شيء أعوذ بك من النار» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات کو بستر اختیار فرماتے تو فرماتے شکر ہے اس اللّٰه کا جو میرے لیے کافی ہوا اور جس نے مجھے کھلایا اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان پھر فضل کیا ۱؎اور جس نے مجھے دیا تو بہت زیادہ دیا۲؎ہر حال میں اللّٰه کا شکر ہے ۳؎اے اللّٰه ہر چیز کے رب اور بادشاہ اے ہر چیز کے معبود میں آگ سے تیری پناہ لیتا ہوں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس دعا میں رب تعالٰی کی چھ نعمتوں کا ذکر ہے:کفایت یعنی مخلوق سے بے نیاز کردینا ،اواء یعنی رہنے کے مکان عطا فرمانا،کھانا پانی عطا فرمانا،دیگر نعمتیں دینا اور سب سے اعلٰی دینا۔واقعی رب تعالٰی نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اتنا دیا کہ جتنا کسی کو نہ دیا،خود فرماتا ہے:"وَكَانَ فَضْلُ اللّٰه عَلَیۡكَ عَظِیۡمًا"محبوب آپ پر اللّٰه کا بڑا فضل ہے اور فرماتا ہے:"اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰكَ الْكَوْثَرَ"ہم نے آپ کو بہت کچھ دیا،یہاں اس عطا کا شکر ہے۔
۲
؎افضلمیں کیفیت کی زیادتی مراد تھی اوراجزلمیں مقدار کی زیادتی مقصود ہے یعنی مجھے رب تعالٰی نے بہت زیادہ اعلٰی دیا لہذا کلمات میں تکرار نہیں۔
۳
؎یعنی فقر و غنا،رنج و عنا،راحت و مصیبت ہر حال میں اللّٰه کا شکر ہے۔خیال رہے کہ رب کی بھیجی ہوئی مصیبت و غم بھی نعمت ہےکہ اس کے ذریعے ہزار گناہ معاف ہوجاتے ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ شکر تو صرف نعمت پر ہوتا ہے پھر ہر حال میں شکر کیسا۔
۴
؎مالك و ملیك کا فرق بار ہا بیان ہوچکا کہ ظاہری عارضی ملک رکھنے والا بھی مالک کہلاتا ہے،مگر حقیقی دائمی ملک والا ملیک۔مالک ملیک سے عام۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے وقت رب تعالٰی کو اس کے اچھے ناموں سے یاد کرنا چاہیے،حمد الٰہی دعا کا رکن ہے،آگ سے پناہ مانگنے کے یہ معنے بھی ہیں کہ رب تعالٰی ہمیں دوزخ والے اعمال سے بچائے اور یہ معنے بھی ہیں کہ گناہوں کی معافی دے کر دوزخ سے نجات دیدے،دوزخ سے نجات ملنے پران شاءاللّٰهجنت ملنا لازمی ہے کیونکہ سوا ء جنت و دوزخ کے انسانوں کے لیے تیسرا کوئی مقام نہیں۔اعراف ایک عارضی جگہ ہوگی جس کے بعد جنت ملے گی لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں کہ یہاں جنت کی طلب نہیں کی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2410