Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2411

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا أَنامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوَيْتَ إِلٰى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالقَوِيِّ وَالْحَكِيمُ بْنُ ظُهَيْرٍ الرَّاوِي قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهٗ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

وعن بريدة قال: شكا خالد بن الوليد إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله! ما أنام الليل من الأرق فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: " إذا أويت إلى فراشك فقل: اللهم رب السماوات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت".رواه الترمذي وقال هذا حديث ليس إسناده بالقوي والحكيم بن ظهير الراوي قد ترك حديثه بعض أهل الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ خالد ابن ولید نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں شکایت کی عرض کیا یارسولاللّٰهمیں بے خوابی کے باعث رات کو سوتا نہیں ۱؎تب نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یوں کہو اے اللّٰه اسے سات آسمانوں کے اور جن پر یہ آسمان سایہ فگن ہیں ان کے رب اور زمینوں کے اور جنہیں زمین اٹھائے ہے ان کے رب۲؎اور اے شیطانوں کے اور جنہیں وہ گمراہ کریں ان کے رب ۳؎تو اپنی ساری مخلوق کی شر سے میری پناہ ہو جا کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی یا ظلم کرے ۴؎تیری پناہ غالب ہے،تیری ثنا شاندار ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں صرف تو ہی معبود ہے ۵؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں اور حکیم ابن ظہیر راوی کی حدیث کو بعض محدثین نے چھوڑ دیا ہے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎شکاالف سے بھی لکھا جاتاہے،یہشکوتسے بنا اورشکیٰ یسے بھی جوشکیتسے بناشکوتوشکیتدونوں لغتیں درست ہیں۔مشکوٰۃ شریف کے اس نسخے میں ی سے ہے۔ارقمطلقًا بے خوابی کو کہتے ہیں خواہ فکر یا رنج سے ہو یا خشکی سے،خوشی سے بے خوابی ارق نہیں کہلاتی کہ وہ بیماری نہیں،یہاں وسوسہ یا فکر سے نہ سونا مراد ہے اس لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ دعا سکھائی،اگر خشکی سے ہوتی تو دوا بتائی جاتی،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم حکیم روحانی بھی ہیں حکیم جسمانی بھی،حضرت خالد کو کئی راتوں سے نیند نہ آئی تھی یا وسوسوں سے یا رنج و غم سے آپ پریشان ہوگئے تھے تب یہ عرض کیا۔
۲
؎اس چھوٹے سے جملے میں تمام عالم اجسام کی چیزیں داخل ہیں آسمان میں فرشتے وغیرہ آگئے آسمان کے زیر سایہ ہیں۔تمام فضا کی چیزیں و زمین اور زمینی چیزوں میں زمین پر اور زمین کے اندر کی تمام چیزیں داخل ہوگئیں۔
۳
؎شیاطینسے مراد گمراہ کن چیزیں ہیں آدمی ہوں یا جنات،اس سے عام چیزیں مراد ہیں خواہ عقل والی ہوں یا غیر عاقل،اگرچہ یہ چیزیں بھی پہلے جملے میں داخل تھیں مگر خصوصیت سے ان کا ذکر علیحدہ کیا گیا کیونکہ اس دعا میں انہیں کے شر سے حفاظت مانگی گئی ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۴
؎یہاںجاربمعنی حافظ،ناصر،امان دہ ہے نہ کہ بمعنی پڑوسی بلکہ پڑوسی کو بھی جار اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ امن و امان کا ذریعہ ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ هُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ"یعنی خدا تو میرا مددگار،حافظ،امان ہوجا،مجھے اس سے امن میں رکھ کہ کوئی موذی چیز ایذا دے۔
۵
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہجاربمعنی مستجیر ہے یعنی جو تیری امان میں آجائے وہ سب پر غالب ہی رہتا ہے،دیکھو موسیٰ علیہ السلام سے، رب تعالٰی نے فرمایا:"اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیۡنَ"تم کو امن ہے یعنی جو تیری امان میں آجائے وہ سب پر غالب رہے،جسے سلطنت دنیاوی پناہ دے دے وہ غالب ہوجاتا ہے تو جسے رب پناہ دے دے اسے کون مغلوب کرسکتا ہے،رب کی حمد ثناء تمام حمدوں سے شاندار ہے کہ تمام مخلوق اس کے گن گارہی ہے۔
۶
؎چنانچہ حکم یا حکیم ظہیر کے متعلق بخاری،ابو زرعہ،نسائی،ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ یہ متروک الحدیث ہے،ابن معین نے فرمایا کہ اس حدیث میں کچھ نہیں،ابن عدی نے فرمایا کہ اس کی اکثر حدیثیں غیر محفوظ ہیں،اس حدیث کو ابن ابی شیبہ،طبرانی اور حصن حصین نے بھی نقل فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2411