- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2392
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2392
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسٰى: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسٰى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هٰذِهٖ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ أَوِ الْكُفْرِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكِبْرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» . وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذٰلِكَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَتِهٖ لَمْ يَذْكُرْ: "مِنْ سُوءِ الْكُفْرِ".
وعن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول إذا أمسى: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر أو الكفر» . وفي رواية: «من سوء الكبر والكبر رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» . وإذا أصبح قال ذلك أيضا: «أصبحنا وأصبح الملك لله» . رواه أبو داود والترمذي وفي روايته لم يذكر: "من سوء الكفر".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ۱؎سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم شام کے وقت یہ پڑھتے تھے ہم نے اور اللّٰه کے سارے ملک نے شام پالی۲؎اللّٰه کا شکر ہے،اکیلے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اس کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے ۳؎اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔الٰہی میں تجھ سے اس رات کی بھلائی،اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی شر اور اس کے بعد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۴؎یارب میں سستی اور بڑھاپے برے ۵؎یا کفر سے اور ایک روایت ہے کہ برے بڑھاپے اور تکبر سے تیر ی پناہ مانگتا ہوں ۶؎یارب میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتاہوں ۷؎اور جب سویرا پاتے تو بھی کہتے کہ ہم نے اور اللّٰه کے سارے ملک نے صبح پالی۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ایک روایت میں کفر کی ہر بر ائی کا ذکر نہ فرمایا۔
شرح حدیث
۱∞؎عبداللّٰه سے مراد حضرت عبداللّٰه ابن مسعود ہیں جو بڑے فقیہ مشہور صحابی ہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎اللّٰه کے سارے ملک سے مراد عالم اجسام ہے کیونکہ عالم انوار اور عالم امر وغیرہ پر نہ رات آئے نہ دن،اسی طرح جنت و دوزخ میں سورج کا اثر نہیں وہاں رب کی تجلی ہے۔اَمْسَیْنَامیں یا تو خود حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی ذات بابرکات مراد ہے یا سارے مسلمان یا سار ے انسان اگرچہ ملک اللّٰه میں انسان بھی داخل تھا مگر چونکہ یہ اشرف المخلوق ہے اس لیے اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔
۳؎یعنی حقیقی ملک اور حقیقی حمد صرف رب تعالٰی کی ہے،دوسروں کا ملک بھی مجازی و عارضی ہے اور حمد بھی مجازی،مصنوع کی تعریف دراصل صانع کی تعریف ہے۔
۴؎یعنی اس رات کی شر سے بھی تیری پناہ اور آئندہ راتوں کی شر سے بھی تیری پناہ۔شر سے مراد تشر یعی تکوینی دونوں شریں ہیں۔راتوں میں نیکیوں کی توفیق نہ ملنا،گناہ سرزد ہوجانا،راتیں غفلت میں گزارنا ان کی تشریعی شر ہے اور راتوں میں چوری ڈکیتی گھر گر جانا،اندھیرے میں زہریلے جانوروں کا کاٹ کھانا وغیرہ تکوینی شریں ہیں،یہ ایک لفظ ان تمام کو شامل ہے۔
۵؎سستی سے مراد نیکیوں میں سستی ہے جس سے یا تو نیکیاں ہوں ہی نہیں یا ہوں مگر بگڑ کر اور برے بڑھاپے سے مراد وہ بڑھاپا ہے کہ قوتیں جواب دے جائیں اور دوسروں پر انسان بوجھ بن جائے،اللّٰه اس عمر سے بچائے۔شعر
دانت گرے اور کھر گھسے پیٹھ بوجھ نہ لے ایسے بوڑھے بیل کو کون باندھ کر بُھس دے
۶؎تکبر اللّٰه تعالٰی کی تو صفت اس کا نام ہے متکبر یعنی بہت ہی بڑائی والا مگر بندے کے لیے تکبر کبھی عیب ہے،کبھی خوبی،بندے کے لیے اس کے معنے ہیں بڑائی کا اظہار اگر یہ کفار کے مقابلہ میں ہو خصوصًا جنگ کی حالت میں تو بہت ہی اچھا ہے،خود حضورانور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حنین میں فرمایاانا ابن عبدالمطلباور مسلمان کے مقابلہ میں ہو شیخی کے طور پر تو برا اور اگر رب تعالٰی کی نعمت کے اظہار کے لیے ہو تو اس کا نام شکر ہے یہ عبادت ہے اور اللّٰه رسول کے مقابلہ میں تکبر کفر ہے،یہاں تکبر سے برا تکبر مراد ہے جو حرام یا کفر ہے۔
۷؎دوزخ اور قبر دونوں جگہ آگ ہی کا عذاب ہوگا اگر دوزخ کا عذاب آگ میں عذاب ہے اور قبر کا عذاب آگ سے عذاب ہے کہ آگ دوزخ میں ہے مگر اس کی گرمی قبر میں،چونکہ دوزخ کا عذاب سخت ہے اور قبر کا عذاب اس سے نرم و ہلکا اسی لیے پہلے دوزخ کے عذاب کا ذکر فرمایا بعد میں قبر کے عذاب کا یعنی میں دوزخ و قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔مقصد یہ ہے کہ خدایا مجھے زندگی میں ایسے اعمال سے بچالے جو عذابِ دوزخ یا عذابِ قبر کا سبب ہیں ا ور بعد موت قبر کے عذاب سے بچا اور بعد حشر دوزخ کے عذاب سے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2392