Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2396

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا اَللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذٰلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ كَذٰلِكَ، فَإِنَّكَ إِذَا مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن الحارث بن مسلم التميمي عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أسر إليه فقال: «إذا انصرفت من صلاة المغرب فقل قبل أن تكلم أحدا اللهم أجرني من النار سبع مرات فإنك إذا قلت ذلك ثم مت في ليلتك كتب لك جواز منها وإذا صليت الصبح فقل كذلك، فإنك إذا مت في يومك كتب لك جواز منها » . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حارث بن مسلم تمیمی سے وہ اپنے والد سے وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے خبر دی کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں خفیۃً ۱؎فرمایا کہ جب تم نماز مغرب سے فارغ ہو تو کسی سے کلام کرنے سے پہلے سات بار یہ پڑھ لو الٰہی مجھے آگ سے بچالے۲؎جب تم یہ کہہ لو گے پھر اگر تم اس رات مرجاؤ گے تو تمہیں آگ سے گزر لکھی جائے گی اور جب تم فجر پڑھو تو یہ ہی کہہ لو پھر اگر تم اس دن فوت ہوجاؤ تو تمہارے لیے آگ سے گزر جانا لکھا جائے گا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اَسَرَّ اسراسے بنا،جس کے معنی خفیہ بھی ہیں یعنی سرّ بھید کی بات بتانا اور اعلان بھی،اس طرح کہاسراءکی ہمزہ سلب کے لیے ہو،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں خفیہ یہ عمل بتایا تاکہ در مکنون کی طرح اس کی قدر کریں اور اس کو سنبھالیں یا علانیہ ارشاد فرمایا تاکہ دوسرے سامعین کو بھی اس کا فائدہ ہو۔(مرقات)مگر پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں جیسا کہ اشعہ اور لمعات وغیرہ میں ہے۔
۲
؎یعنی نماز مغرب پڑھ کر بغیر کسی سے دنیاوی کلام کیے ہوئے سات بار یہ دعا پڑھو،دنیاوی کلام کرلینے سے نماز کا دلی خشوع و خضوع کم ہوجاتا ہے اور زبان پر نماز کی تاثیر کم ہوجاتی ہے اس لیے بعض دعاؤں میں دنیاوی کلام نہ کرنے کی قید ہوتی ہے حتی کہ تلاوت قرآن و دعاؤں کے دوران بھی اور وضو میں بھی دنیاوی کلام نہ کرنا چاہیے۔سات بار کی قید اس لیے ہے کہ دوزخ کے دروازے سات ہیں اس عدد کی برکت سے اللّٰه تعالٰی اس پر وہ ساتوں دروازے بند کردے گا،ہر عدد ایک قفل کا کام دے گا۔ان شاءاللّٰه!
۳
؎جواز کا ترجمہ آج کل اصطلاح میں یا پاسپورٹ ہے یعنی نکل جانے کا اجازت نامہ جیسے ویزا داخلہ کا اجازت نامہ ہوتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ان کلمات کی برکت سے آج تمہیں نیک اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کی توفیق ملے اور اگر آج موت آئی تو ایمان پر خاتمہ میسر ہوگا،یہ مطلب نہیں کہ یہ دعا پڑھ لو اور خواہ کتنی ہی بدکاریاں کرو،شرک کرو جنتی ہوگئے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2396