Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2406

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ اللّٰه فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهٗ عَشْرًا وَيُكبِّرهُ عَشْراً» قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهٖ قَالَ: «فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَان وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ يُسَبِّحُهٗ وَيُكَبِّرُهٗ وَيَحْمَدُهٗ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهٖ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتّٰى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهٗ أَنْ لَا يَفْعَلَ وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهٖ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهٗ حَتّٰى يَنَامَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ أَوْ خلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ» . وَكَذَا فِي رِوَايَتِهٖ بَعْدَ قَوْلِهٖ : «وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ» قَالَ: «وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ» وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ" عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عُمَرَ.

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة ألا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا» قال: فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده قال: «فتلك خمسون ومائة في اللسان وألف وخمسمائة في الميزان وإذا أخذ مضجعه يسبحه ويكبره ويحمده مائة فتلك مائة باللسان وألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم والليلة ألفين وخمس مائة سيئة؟» قالوا: وكيف لا نحصيها؟ قال: " يأتي أحدكم الشيطان وهو في صلاته فيقول: اذكر كذا اذكر كذا حتى ينفتل فلعله أن لا يفعل ويأتيه في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام ". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وفي رواية أبي داود قال: «خصلتان أو خلتان لا يحافظ عليهما عبد مسلم» . وكذا في روايته بعد قوله : «وألف وخمسمائة في الميزان» قال: «ويكبر أربعا وثلاثين إذا أخذ مضجعه» ويحمد ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين".وفي أكثر نسخ "المصابيح" عن عبد الله ابن عمر.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو خصلتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار نہیں کرتا مگر جنت میں ضرور جائے گا ۱؎وہ ہیں تو آسان مگر ان پر عامل تھوڑے ہیں۲؎ہر نماز کے بعد دس بار اللّٰه کی تسبیح کہے،دس بار اس کی حمد کرے،دس بار تکبیر کہے ۳؎راوی فرماتے ہیں پھر میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے عقد انامل فرما کر فرمایا کہ یہ زبان میں تو ڈیڑھ سو ہیں ۴؎مگر میزان یعنی ترازو میں ڈیڑھ ہزار ہوں گے ۵؎اور جب اپنا بستر لے تو سو بار تسبیح تکبیر اور حمد کرے ۶؎تو یہ زبان میں ایک سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار۷؎بتاؤ تو تم میں سے کون ہے جو ایک دن و رات میں ڈھائی ہزار گناہ کرے۸؎لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کی کیوں نہ پابندی کریں گے ۹؎فرمایا جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس پہنچ کر کہتا ہے فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو حتی کہ نمازی کو باز رکھ دیتا ہے تو شاید وہ یہ عمل نہ کرسکے ۱۰؎اور شیطان اس کے خوابگاہ پر پہنچ کر اسے سلاتا رہتا ہے حتی کہ وہ سوجاتا ہے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جن کی کوئی بندہ مسلمان حفاظت نہیں کرتا۱۲؎الخ اسی طرح ابوداؤد کی روایت میں اس کلام کے بعد کہ میزان میں ڈیڑھ ہزار میں یہ ہے کہ فرمایا ۳۴ بار تکبیر کہے جب اپنا بستر لے اور ۳۳ بارالحمدللّٰہپڑھے اور ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِکہے ۱۳؎اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللّٰه بن عمر سے روایت ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ایسے مقامات میںرجلبمعنی آدمی ہوتا ہے نہ کہ بمعنی مرد لہذا یہ مطلب نہیں کہ مرد مسلمان تو یہ عمل کرے عورت مسلمہ نہ کرے بلکہ جو بھی کرے مرد یا عورت سب کو مفید ہے۔مسلم کی قید اس لیے لگائی گئی کہ کافر کا کوئی عمل وظیفہ نہ قبول ہے نہ باعث ثواب۔خیال رہے کہ بعض اعمال کی دنیاوی تاثیر کفار سے صادر ہوجاتی ہے جیسے گالی کا برا اثر اور اچھے الفاظ کا دل پر اچھا اثر،بہرحال ہوتا ہے خواہ کافر کی طر ف سے ہو یا مؤمن کی طرف سے۔لایحصیھما احصاءٌسے بنا جس کے لغوی معنی تو ہیں شمار کرنا مگر اصطلاح میں حفاظت کرنے،طاقت رکھنے کے معنی میں آتا ہے خصوصًا جب کہ وہ چیز گنتی والی ہو یہاں اصطلاحی معنی مراد ہے۔
۲
؎اس میں غیبی خبر ہے کہ یہ عمل کچھ بھاری نہیں مگر بہت آسان ہے لیکن اس کی توفیق کم لوگوں کو ملے گی جیسے رب تعالٰی نماز کے متعلق فرماتا ہے: "وَ اِنَّھَا لَكَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ"یہ نماز خاشعین کے سوا دوسروں پر گراں ہے،اس کا ظہور آج بھی ہورہا ہے کہ روزہ حج جو مشکل چیزیں ہیں لوگ خوشی و شوق سے کرتے ہیں حتی کہ بچے روزے کے لیے ضد کرتے ہیں مگر نماز کا پابند کوئی کوئی ہے،اسی طرح اس عمل کے پڑھنے والے اب بھی کم دیکھے جاتے ہیں،یہ ہے اس مخبر صادق کی سچی خبر صلی اللّٰہ علیہ و سلم۔
۳
؎اس طرح کہ پہلے دس بارسُبْحَانَ اللّٰهِکہے،پھر دس بار الحمداللّٰہ،پھر دس بار اللّٰه اکبر،یہ نہ کرے کہسُبْحَانَ اللّٰهِ والحمدللّٰہ اللّٰه اکبرملا کر دس بار کہے کہ یہ مقصد حدیث کے خلاف ہے۔
۴
؎اس طرح کہ ہر نماز کے بعد تیس ہوئے اور پانچ نمازیں ہیں تو تیس پنجہ ڈیڑھ سو ہوئے۔
۵
؎یعنی یہ کلمات روزانہ پڑھنے میں ڈیڑھ سو مگر ثواب میں ڈیڑھ ہزار کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے "مَنۡ جَآءَ بِالحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا"یہ تو ہے قانون اور فضل رب کا کوئی حساب نہیں۔
۶
؎یعنی سوتے وقت بستر پر لیٹنے سے پہلےسبحان اللّٰه۳۳ بارالحمداللّٰہ۳۳ بار اوراللّٰه اکبر۳۴ بار پڑھ لیا کرے۔واؤ ترتیب کے لیے نہیں لہذااللّٰه اکبرالحمداللّٰہکے بعد پڑھے اور اس کا ذکر حمد سے پہلے ہے یہ ہی بزرگوں کا عمل ہے اور دوسری احادیث بھی اس کی تائید فرماتی ہے۔
۷
؎یہاں بھی وہ ہی حساب ہے کہ قانونًا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے تو سو کلمات کا ثواب ہزار گنا ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں وزن نیکی کے ثواب کا ہوگا نہ کہ محض الفاظ کا اسی لیے کفار کی نیکیاں بالکل وزنی نہ ہوں گی اور گناہ بہت بھاری،ان شاءاللّٰہ !مؤمن کی نیکیاں بقدر اخلاص وزنی ہوں گی اور گناہ کا یا تو وزن ہوگا ہی نہیں اگر ہوگا تو بہت ہلکا،رب تعالٰی کفار کی نیکیوں کے متعلق فرماتا ہے:"فَلَانُقِیۡمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا"لہذافی المیزانفرمانا بہت موزوں ہے۔
۸
؎یعنی یہ کلمات سارے مل کر پڑھنے میں تو ہوئے ڈھائی سو اور ثواب میں ہوئے ڈھائی ہزار اور ہر ایک کلمہ ایک ایک گناہ مٹاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔چنانچہ ان کا مجموعہ ڈھائی ہزار گناہ مٹانے کے لیے کافی ہے اور بمشکل ہی کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو ڈھائی ہزار گنا ہ روزانہ کرے،توان شاءاللّٰهاب یہ کلمات خالص نفع ہی میں بچے،کچھ نے تو گناہ مٹائے اور جو گناہوں سے بچے انہوں نے درجے بڑھائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکیاں ثواب کا باعث بھی ہیں اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی،داتا کی دین کے بہانے ہیں۔
۹
؎یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ یا حبیب اللّٰه اتنا آسان عمل اور اتنے فائدے والا عمل کون چھوڑے گا اور کیوں چھوڑے گا،کیسے چھوڑے گا۔
۱۰
؎سبحان اللّٰه! کیسا پیارا جواب ہے یعنی جب شیطان فرائض عبادات میں یوں خلل ڈال دیتا ہے تو یہ عمل تو ایک نفلی کام ہے اس سے کیوں نہ روکے گا،نماز کے بعد تمہیں ایسے کام یاد دلائے گا کہ تم مسجد سے جلد جانے کی کوشش کرو گے اور کہے گا کہ یہ عمل صرف نفلی ہی تو ہے اسے چھوڑ دو، فلاں کام چل کرکرو۔
۱۱
؎یعنی نماز والے عمل سے تو اسی طرح روکے گا جو بیان ہوئی اور سوتے وقت کے عمل سے یوں روکے گا کہ اسے بستر پر پہنچتے ہی سلادے گا کہے گا کہ یہ عمل صرف نفلی ہے اسے چھوڑ دے اور جلد سوجاؤ تاکہ فجر کے لیے وقت پر آنکھ کھلے۔خیال رہے کہ شیطان دینداروں کے پاس پہنچ کر دین دکھا کر بہکاتا ہے۔
۱۲
؎یعنی ابوداؤد کی روایت میں شک سے ہےخلتانفرمایا یاخصلتاناگرچہ ان دونوں لفظوں کے معنے ایک ہی ہیں مگر محتاط راوی الفاظ رسول اللّٰہ کی پابندی کرتے تھے اور حدیث کو قرآن شریف کی طرح یاد کرتے تھے اگر کہیں ذرا سا تردد ہوجاتا تو بیان کردیتے تھے۔
۱۳
؎یہاں بھی وہ بات یاد رہے جو ابھی پہلے عرض کی گئی کہ واؤ ترتیب نہیں چاہتا لہذا بیان میں تکبیر پہلے ہے اور تسبیح بعد میں مگر پڑھنے میںسُبْحَانَ اللّٰهِپہلے ہوگی اور اللّٰه اکبر بعد میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2406