- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2406
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2406
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ اللّٰه فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهٗ عَشْرًا وَيُكبِّرهُ عَشْراً» قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهٖ قَالَ: «فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَان وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهٗ يُسَبِّحُهٗ وَيُكَبِّرُهٗ وَيَحْمَدُهٗ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهٖ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتّٰى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهٗ أَنْ لَا يَفْعَلَ وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهٖ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهٗ حَتّٰى يَنَامَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ أَوْ خلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ» . وَكَذَا فِي رِوَايَتِهٖ بَعْدَ قَوْلِهٖ : «وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ» قَالَ: «وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ» وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ" عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عُمَرَ.
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة ألا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا» قال: فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده قال: «فتلك خمسون ومائة في اللسان وألف وخمسمائة في الميزان وإذا أخذ مضجعه يسبحه ويكبره ويحمده مائة فتلك مائة باللسان وألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم والليلة ألفين وخمس مائة سيئة؟» قالوا: وكيف لا نحصيها؟ قال: " يأتي أحدكم الشيطان وهو في صلاته فيقول: اذكر كذا اذكر كذا حتى ينفتل فلعله أن لا يفعل ويأتيه في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام ". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وفي رواية أبي داود قال: «خصلتان أو خلتان لا يحافظ عليهما عبد مسلم» . وكذا في روايته بعد قوله : «وألف وخمسمائة في الميزان» قال: «ويكبر أربعا وثلاثين إذا أخذ مضجعه» ويحمد ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين".وفي أكثر نسخ "المصابيح" عن عبد الله ابن عمر.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو خصلتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار نہیں کرتا مگر جنت میں ضرور جائے گا ۱؎وہ ہیں تو آسان مگر ان پر عامل تھوڑے ہیں۲؎ہر نماز کے بعد دس بار اللّٰه کی تسبیح کہے،دس بار اس کی حمد کرے،دس بار تکبیر کہے ۳؎راوی فرماتے ہیں پھر میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے عقد انامل فرما کر فرمایا کہ یہ زبان میں تو ڈیڑھ سو ہیں ۴؎مگر میزان یعنی ترازو میں ڈیڑھ ہزار ہوں گے ۵؎اور جب اپنا بستر لے تو سو بار تسبیح تکبیر اور حمد کرے ۶؎تو یہ زبان میں ایک سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار۷؎بتاؤ تو تم میں سے کون ہے جو ایک دن و رات میں ڈھائی ہزار گناہ کرے۸؎لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کی کیوں نہ پابندی کریں گے ۹؎فرمایا جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس پہنچ کر کہتا ہے فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو حتی کہ نمازی کو باز رکھ دیتا ہے تو شاید وہ یہ عمل نہ کرسکے ۱۰؎اور شیطان اس کے خوابگاہ پر پہنچ کر اسے سلاتا رہتا ہے حتی کہ وہ سوجاتا ہے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جن کی کوئی بندہ مسلمان حفاظت نہیں کرتا۱۲؎الخ اسی طرح ابوداؤد کی روایت میں اس کلام کے بعد کہ میزان میں ڈیڑھ ہزار میں یہ ہے کہ فرمایا ۳۴ بار تکبیر کہے جب اپنا بستر لے اور ۳۳ بارالحمدللّٰہپڑھے اور ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِکہے ۱۳؎اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللّٰه بن عمر سے روایت ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎ایسے مقامات میںرجلبمعنی آدمی ہوتا ہے نہ کہ بمعنی مرد لہذا یہ مطلب نہیں کہ مرد مسلمان تو یہ عمل کرے عورت مسلمہ نہ کرے بلکہ جو بھی کرے مرد یا عورت سب کو مفید ہے۔مسلم کی قید اس لیے لگائی گئی کہ کافر کا کوئی عمل وظیفہ نہ قبول ہے نہ باعث ثواب۔خیال رہے کہ بعض اعمال کی دنیاوی تاثیر کفار سے صادر ہوجاتی ہے جیسے گالی کا برا اثر اور اچھے الفاظ کا دل پر اچھا اثر،بہرحال ہوتا ہے خواہ کافر کی طر ف سے ہو یا مؤمن کی طرف سے۔لایحصیھما احصاءٌسے بنا جس کے لغوی معنی تو ہیں شمار کرنا مگر اصطلاح میں حفاظت کرنے،طاقت رکھنے کے معنی میں آتا ہے خصوصًا جب کہ وہ چیز گنتی والی ہو یہاں اصطلاحی معنی مراد ہے۔
۲؎اس میں غیبی خبر ہے کہ یہ عمل کچھ بھاری نہیں مگر بہت آسان ہے لیکن اس کی توفیق کم لوگوں کو ملے گی جیسے رب تعالٰی نماز کے متعلق فرماتا ہے: "وَ اِنَّھَا لَكَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ"یہ نماز خاشعین کے سوا دوسروں پر گراں ہے،اس کا ظہور آج بھی ہورہا ہے کہ روزہ حج جو مشکل چیزیں ہیں لوگ خوشی و شوق سے کرتے ہیں حتی کہ بچے روزے کے لیے ضد کرتے ہیں مگر نماز کا پابند کوئی کوئی ہے،اسی طرح اس عمل کے پڑھنے والے اب بھی کم دیکھے جاتے ہیں،یہ ہے اس مخبر صادق کی سچی خبر صلی اللّٰہ علیہ و سلم۔
۳؎اس طرح کہ پہلے دس بارسُبْحَانَ اللّٰهِکہے،پھر دس بار الحمداللّٰہ،پھر دس بار اللّٰه اکبر،یہ نہ کرے کہسُبْحَانَ اللّٰهِ والحمدللّٰہ اللّٰه اکبرملا کر دس بار کہے کہ یہ مقصد حدیث کے خلاف ہے۔
۴؎اس طرح کہ ہر نماز کے بعد تیس ہوئے اور پانچ نمازیں ہیں تو تیس پنجہ ڈیڑھ سو ہوئے۔
۵؎یعنی یہ کلمات روزانہ پڑھنے میں ڈیڑھ سو مگر ثواب میں ڈیڑھ ہزار کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے "مَنۡ جَآءَ بِالحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا"یہ تو ہے قانون اور فضل رب کا کوئی حساب نہیں۔
۶؎یعنی سوتے وقت بستر پر لیٹنے سے پہلےسبحان اللّٰه۳۳ بارالحمداللّٰہ۳۳ بار اوراللّٰه اکبر۳۴ بار پڑھ لیا کرے۔واؤ ترتیب کے لیے نہیں لہذااللّٰه اکبرالحمداللّٰہکے بعد پڑھے اور اس کا ذکر حمد سے پہلے ہے یہ ہی بزرگوں کا عمل ہے اور دوسری احادیث بھی اس کی تائید فرماتی ہے۔
۷؎یہاں بھی وہ ہی حساب ہے کہ قانونًا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے تو سو کلمات کا ثواب ہزار گنا ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں وزن نیکی کے ثواب کا ہوگا نہ کہ محض الفاظ کا اسی لیے کفار کی نیکیاں بالکل وزنی نہ ہوں گی اور گناہ بہت بھاری،ان شاءاللّٰہ !مؤمن کی نیکیاں بقدر اخلاص وزنی ہوں گی اور گناہ کا یا تو وزن ہوگا ہی نہیں اگر ہوگا تو بہت ہلکا،رب تعالٰی کفار کی نیکیوں کے متعلق فرماتا ہے:"فَلَانُقِیۡمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا"لہذافی المیزانفرمانا بہت موزوں ہے۔
۸؎یعنی یہ کلمات سارے مل کر پڑھنے میں تو ہوئے ڈھائی سو اور ثواب میں ہوئے ڈھائی ہزار اور ہر ایک کلمہ ایک ایک گناہ مٹاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔چنانچہ ان کا مجموعہ ڈھائی ہزار گناہ مٹانے کے لیے کافی ہے اور بمشکل ہی کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو ڈھائی ہزار گنا ہ روزانہ کرے،توان شاءاللّٰهاب یہ کلمات خالص نفع ہی میں بچے،کچھ نے تو گناہ مٹائے اور جو گناہوں سے بچے انہوں نے درجے بڑھائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکیاں ثواب کا باعث بھی ہیں اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی،داتا کی دین کے بہانے ہیں۔
۹؎یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ یا حبیب اللّٰه اتنا آسان عمل اور اتنے فائدے والا عمل کون چھوڑے گا اور کیوں چھوڑے گا،کیسے چھوڑے گا۔
۱۰؎سبحان اللّٰه! کیسا پیارا جواب ہے یعنی جب شیطان فرائض عبادات میں یوں خلل ڈال دیتا ہے تو یہ عمل تو ایک نفلی کام ہے اس سے کیوں نہ روکے گا،نماز کے بعد تمہیں ایسے کام یاد دلائے گا کہ تم مسجد سے جلد جانے کی کوشش کرو گے اور کہے گا کہ یہ عمل صرف نفلی ہی تو ہے اسے چھوڑ دو، فلاں کام چل کرکرو۔
۱۱؎یعنی نماز والے عمل سے تو اسی طرح روکے گا جو بیان ہوئی اور سوتے وقت کے عمل سے یوں روکے گا کہ اسے بستر پر پہنچتے ہی سلادے گا کہے گا کہ یہ عمل صرف نفلی ہے اسے چھوڑ دے اور جلد سوجاؤ تاکہ فجر کے لیے وقت پر آنکھ کھلے۔خیال رہے کہ شیطان دینداروں کے پاس پہنچ کر دین دکھا کر بہکاتا ہے۔
۱۲؎یعنی ابوداؤد کی روایت میں شک سے ہےخلتانفرمایا یاخصلتاناگرچہ ان دونوں لفظوں کے معنے ایک ہی ہیں مگر محتاط راوی الفاظ رسول اللّٰہ کی پابندی کرتے تھے اور حدیث کو قرآن شریف کی طرح یاد کرتے تھے اگر کہیں ذرا سا تردد ہوجاتا تو بیان کردیتے تھے۔
۱۳؎یہاں بھی وہ بات یاد رہے جو ابھی پہلے عرض کی گئی کہ واؤ ترتیب نہیں چاہتا لہذا بیان میں تکبیر پہلے ہے اور تسبیح بعد میں مگر پڑھنے میںسُبْحَانَ اللّٰهِپہلے ہوگی اور اللّٰه اکبر بعد میں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2406