Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2384

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى فِرَاشِهٖ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهٗ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهٖ فَإِنَّهٗ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهٗ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهٗ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَابِمَا تَحْفَظُ بِهٖ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ". وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلٰى شِقِّهٖ الأَ يْمَنِ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِك"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ:«فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا »

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم يقول: باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه ، إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظهابما تحفظ به عبادك الصالحين ". وفي رواية:"ثم ليضطجع على شقه الأ يمن ثم ليقل باسمك"(متفق عليه)وفي رواية:«فلينفضه بصنفة ثوبه ثلاث مرات وإن أمسكت نفسي فاغفر لها »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو اپنے تہبند کے داخلی پلو سے بستر جھاڑ دے ۱؎اسے کیا خبر کہ بستر پر کیا چیز پڑی ہے۲؎پھر کہے یارب میں تیرے نام پر اپنا پہلو رکھ رہا ہوں ۳؎اور تیرے نام پر ہی اٹھاؤں گا۴؎اگر آج میری جان تو قبض کرے تو اس پر رحم فرمانا ۵؎اور اگر واپس بھیجے تو اس کی اس ہی سے حفاظت فرمانا جس سے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے داہنی کروٹ پر لیٹ جائے پھر کہےبِاسْمِكَ،الخ(مسلم،بخاری)۷؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے کپڑے کے پلو سے بستر تین بار جھاڑے ۸؎اور یوں کہے کہ اگر تو میری جان قبض فرمالے تو اسے بخش دیجیو۔

شرح حدیث

۱∞؎عرب شریف میں دن و رات بستر بچھے ہی رہتے تھے،ہمارے ملک کی طرح صبح کو سمیٹے نہ جاتے تھے،اور اس زمانہ میں تہبند ہی پہنے جاتے تھے اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ جب سونے کے لیے بستر پر جاؤ اور کوئی فالتو کپڑا نہ ہو تو تہبند کے پلے سے ہی بستر جھاڑ دو پھر لیٹو۔
۲
؎گردو غبار،کانٹا،ہڈی یا کوئی موذی جانور،نجاست وغیرہ لہذا اس جھاڑ لینے میں جان و ایمان دونوں کی امن ہے،یہ حکم استحبابی ہے۔
۳
؎یعنی بستر جھاڑ کر داہنی کروٹ پر لیٹ جائے پھر لیٹ کر یہ کہے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
۴
؎یعنی تیرا نام لے کر سوتا ہوں اور تیرا نام لے کر اٹھوں گا،دکانِ زندگی بند بھی تیرے نام پر کررہا ہوں اور تیرے نام پر ہی کھولوں گا،میں کسی وقت نہ تجھ سے لاپراہ ہوں نہ تجھ سے غافل،اللّٰه یہ قال بھی نصیب کرے اور یہ حال بھی۔
۵
؎اس طرح مجھے بخش دینا اور میری معمولی نیکیاں قبول فرمالینا،چونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہی ہے جس کے بعد بیداری موہوم ہے یقینی نہیں اس لیے دعا کرکے سونا بہت مناسب ہے۔
۶
؎یعنی اگر تو مجھے اپنے فضل و کرم سے دوبارہ زندگی بخشے کہ بیدار کردے۔تو جیسے کہ اپنے نیک بندوں کو نفس و شیطان،برے عقیدے واعمال سے بچائے رکھتا ہے مجھے بھی ان چیزوں سے بچانا۔خلاصہ یہ کہ جسم کی حفاظت کے ساتھ روح کی حفاظت بھی فرمانا۔
۷
؎بہتر یہ ہے کہ پہلے داہنی کروٹ پر لیٹے،پھر چت،پھر بائیں پر،پھر دوبارہ داہنی کر وٹ لیٹ کر سوجائے کہ داہنی کر وٹ پر سونے سے غفلت زیادہ نہیں ہوتی،وقت پر آنکھ کھلتی ہے کیونکہ دل بائیں طرف ہے داہنی کروٹ پر لیٹنے سے دل معلق رہتا ہے۔یہ فرق ہمارے لیے ہے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کسی کروٹ پر لیٹیں آپ کو غفلت آتی ہی نہیں،یہ عمل بہت مفید ہے۔(مرقاۃ)
۸
؎یہ جھاڑنا لیٹنے سے پہلے ہے نہ کہ لیٹ جانے کے بعد۔کپڑے سے مراد چادر،رومال یا تہبند ہے،اس جھاڑ نے کی حکمتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں،یہ حکم استحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2384