Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2408

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوٰى إِلٰى فِرَاشِهٖ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرآنِ، وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَاغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يقول إذا أوى إلى فراشه: «اللهم رب السماوات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، و أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين واغنني من الفقر» . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه ورواه مسلم مع اختلاف يسير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور جب اپنے بستر پر جاتے تو عرض فرماتے ۱؎اے اللّٰه اے آسمانوں کے رب اے زمین کے رب اے ہر چیز کے رب ۲؎اے دانہ اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والے ۳؎اے توریت انجیل اور قرآن کو اتار نے والے ۴؎میں ہر اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیری گرفت میں ہے ۵؎تو ہی اول ہے کہ تجھ سے پہلے کچھ نہیں اور تو ہی آخر ہے کہ تیر ے پیچھے کچھ نہیں ۶؎تو ہی ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی چھپا ہے کہ تیرے پیچھے کچھ نہیں ۷؎میرا قرض ادا کردے اور مجھے فقیری سے غنا بخش ۸؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)اسے مسلم نے کچھ تھوڑے فرق کے ساتھ روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بستر پرجاتے وقت لیٹنے سے پہلے اور حصن حصین میں ہے کہ سرکار بستر پر لیٹ کر یہ پڑھتے تھے،ہوسکتا ہے کہ کبھی یہ ہو کبھی وہ لہذا دونوں روایتوں میں تعار ض نہیں۔
۲
؎آسمانی و زمینی اصولی نعمتیں ہیں درمیان کی چیزیں فروعی نعمتیں یعنی تمام اصولی و فروعی نعمتوں کے رب۔مسلم کی رو ایت میںسماواتکے ساتھسبعبھی ہے اور حصن حصین میںورب العرش العظیمبھی ہے۔
۳
؎نویٰکھجور کی گٹھلی کو کہتے ہیں،چونکہ عرب میں کھجور زیادہ ہوتی ہے،نیز تمام درختوں سے کھجور افضل بھی اور زیادہ نافع بھی ہے،اس لیے دانوں کے بعد اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا یعنی اے تخم اور گٹھلی کو چیر کر اس میں سے درخت نکالنے والے مولیٰ، چونکہ دانوں سے غذا اور گٹھلی سے پھل پیدا ہوے ہیں غذا اور میووں سے جسمانی رزق ہے اس لیے دونوں کا ذکر فرمایا۔
۴
؎یعنی جسمانی روزیوں کے ساتھ ہم کو ر وحانی روزی دینے والےکیونکہ آسمانی کتابیں روحانی روزی کا ذریعہ ہیں،چونکہ زبور شریف میں صرف دعائیں تھیں،احکام تو ریت ہی میں تھے،نیز توریت شریف زبور پر حاوی تھی اس لیے زبور کا ذکر نہ فرمایا،حصن حصین میں بجائے قرآن کے فرقان ہے۔
۵
؎مطلب یہ ہے کہ ہر شر والی چیز تیرے قبضہ میں ہے کہ اس کا خالق و مالک ہے مولٰی میں اس کی شر سے تیری پناہ لیتا ہوں،ضعیف ہوں تو قوی،اے قوی مجھ ضعیف کو اپنی پناہ میں لے لے۔
۶
؎یعنی تو ہی ازلی ہے کہ عدم سابق سے پاک ہے اور تو ہی ابدی ہے کہ عدم لاحق سے پاک۔خیال رہے کہ رب کے سوا کوئی چیز ازلی و قدیم نہیں ہر چیز حادث و نوپید ہے مگر ر ب کے ارادے سے بعض چیزیں ابدی ہیں جیسے دوزخ اور وہاں کے عذاب،اسی طرح جنت اور وہاں کے ثواب ارواح اور جنتی و جہنمی لوگ وہاں پہنچ کر کہ یہ سب کچھ ابدی ہیں جنہیں فنا نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اُکُلُھَا دَآئِمٌ"اور فرماتا ہے:"خٰلِدِیۡنَ فِیۡھَاۤ اَبَدًا"اگر ان میں سے کسی چیز کو فنا ہوتی توخلدینکیسے اورابدًاکیسے۔خلاصہ یہ ہے کہ قدیم و ازلی رب تعالٰی کے سواء کوئی نہیں مگر ابدی بہت چیزیں ہیں لیکن رب تعالٰی ذاتی حقیقی ابدی اور وہ چیزیں مجازی و عرضی ابدی۔اور ہوسکتا ہےبعدكبمعنیغیركہو اورمطلب یہ ہو کہ تیرے سوا کسی کو ذاتی طور پربقا نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلُّ شَیۡءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ"اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے ہیں"الا کل شیئ ما خلا اللّٰه باطلٌ"بے دینوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی کہ جنت و دوزخ کو فنا ہے مگر یہ بات باطل ہے اور مطلب حدیث کا وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔
۷
؎یعنی اے میرے مولٰی تو صفات و افعال کے لحاظ سے ایسا ظاہر ہے کہ اس کے ظہور پرکسی کا ظہور نہیں اور ذات کے لحاظ سے ایسا چھپا ہوا ہے کہ تجھ سے زیادہ کوئی چھپی چیز نہیں۔شعر
بے حجابی یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ پردہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرے حسن کو تشبیہ دوں کس چیز سے ایک تو ہی دیدہ ہے تیرے سوا نادیدہ ہے
یہاں مرقات نے فرمایا کہ
دُونبمعنیغیربھی آتا ہے اور بمعنی قریب بھی،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں یعنی تیرے سوا کوئی حقیقی چھپا ہوا نہیں یا کوئی چیز چھپنے میں تجھ سے قریب بھی نہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی بصارت سے چھپا ہے اور بصیرت سے ظاہر یعنی نظر سے چھپنا فکر میں ظاہر۔
۸
؎قرض سے مراد مخلوق کا قرض ہے کیونکہ اس قرض سے بہت گناہ پیدا ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ قرض رات کا غم اور دن کی ذلت ہے،فقیری سے مراد مخلوق کی محتاجی ہے یا اس سے دلی فقر مراد ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ فقر کفر تک پہنچادیتا ہے لہذا یہ حدیث نہ اس آیت کے خلاف ہے"وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ" اور نہ اس حدیث کے مخالفالفقر فخری۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2408