- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2408
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2408
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوٰى إِلٰى فِرَاشِهٖ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرآنِ، وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَاغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يقول إذا أوى إلى فراشه: «اللهم رب السماوات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، و أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين واغنني من الفقر» . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه ورواه مسلم مع اختلاف يسير
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور جب اپنے بستر پر جاتے تو عرض فرماتے ۱؎اے اللّٰه اے آسمانوں کے رب اے زمین کے رب اے ہر چیز کے رب ۲؎اے دانہ اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والے ۳؎اے توریت انجیل اور قرآن کو اتار نے والے ۴؎میں ہر اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیری گرفت میں ہے ۵؎تو ہی اول ہے کہ تجھ سے پہلے کچھ نہیں اور تو ہی آخر ہے کہ تیر ے پیچھے کچھ نہیں ۶؎تو ہی ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی چھپا ہے کہ تیرے پیچھے کچھ نہیں ۷؎میرا قرض ادا کردے اور مجھے فقیری سے غنا بخش ۸؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)اسے مسلم نے کچھ تھوڑے فرق کے ساتھ روایت کیا۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی بستر پرجاتے وقت لیٹنے سے پہلے اور حصن حصین میں ہے کہ سرکار بستر پر لیٹ کر یہ پڑھتے تھے،ہوسکتا ہے کہ کبھی یہ ہو کبھی وہ لہذا دونوں روایتوں میں تعار ض نہیں۔
۲؎آسمانی و زمینی اصولی نعمتیں ہیں درمیان کی چیزیں فروعی نعمتیں یعنی تمام اصولی و فروعی نعمتوں کے رب۔مسلم کی رو ایت میںسماواتکے ساتھسبعبھی ہے اور حصن حصین میںورب العرش العظیمبھی ہے۔
۳؎نویٰکھجور کی گٹھلی کو کہتے ہیں،چونکہ عرب میں کھجور زیادہ ہوتی ہے،نیز تمام درختوں سے کھجور افضل بھی اور زیادہ نافع بھی ہے،اس لیے دانوں کے بعد اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا یعنی اے تخم اور گٹھلی کو چیر کر اس میں سے درخت نکالنے والے مولیٰ، چونکہ دانوں سے غذا اور گٹھلی سے پھل پیدا ہوے ہیں غذا اور میووں سے جسمانی رزق ہے اس لیے دونوں کا ذکر فرمایا۔
۴؎یعنی جسمانی روزیوں کے ساتھ ہم کو ر وحانی روزی دینے والےکیونکہ آسمانی کتابیں روحانی روزی کا ذریعہ ہیں،چونکہ زبور شریف میں صرف دعائیں تھیں،احکام تو ریت ہی میں تھے،نیز توریت شریف زبور پر حاوی تھی اس لیے زبور کا ذکر نہ فرمایا،حصن حصین میں بجائے قرآن کے فرقان ہے۔
۵؎مطلب یہ ہے کہ ہر شر والی چیز تیرے قبضہ میں ہے کہ اس کا خالق و مالک ہے مولٰی میں اس کی شر سے تیری پناہ لیتا ہوں،ضعیف ہوں تو قوی،اے قوی مجھ ضعیف کو اپنی پناہ میں لے لے۔
۶؎یعنی تو ہی ازلی ہے کہ عدم سابق سے پاک ہے اور تو ہی ابدی ہے کہ عدم لاحق سے پاک۔خیال رہے کہ رب کے سوا کوئی چیز ازلی و قدیم نہیں ہر چیز حادث و نوپید ہے مگر ر ب کے ارادے سے بعض چیزیں ابدی ہیں جیسے دوزخ اور وہاں کے عذاب،اسی طرح جنت اور وہاں کے ثواب ارواح اور جنتی و جہنمی لوگ وہاں پہنچ کر کہ یہ سب کچھ ابدی ہیں جنہیں فنا نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اُکُلُھَا دَآئِمٌ"اور فرماتا ہے:"خٰلِدِیۡنَ فِیۡھَاۤ اَبَدًا"اگر ان میں سے کسی چیز کو فنا ہوتی توخلدینکیسے اورابدًاکیسے۔خلاصہ یہ ہے کہ قدیم و ازلی رب تعالٰی کے سواء کوئی نہیں مگر ابدی بہت چیزیں ہیں لیکن رب تعالٰی ذاتی حقیقی ابدی اور وہ چیزیں مجازی و عرضی ابدی۔اور ہوسکتا ہےبعدكبمعنیغیركہو اورمطلب یہ ہو کہ تیرے سوا کسی کو ذاتی طور پربقا نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلُّ شَیۡءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ"اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے ہیں"الا کل شیئ ما خلا اللّٰه باطلٌ"بے دینوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی کہ جنت و دوزخ کو فنا ہے مگر یہ بات باطل ہے اور مطلب حدیث کا وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔
۷؎یعنی اے میرے مولٰی تو صفات و افعال کے لحاظ سے ایسا ظاہر ہے کہ اس کے ظہور پرکسی کا ظہور نہیں اور ذات کے لحاظ سے ایسا چھپا ہوا ہے کہ تجھ سے زیادہ کوئی چھپی چیز نہیں۔شعر
بے حجابی یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ پردہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرے حسن کو تشبیہ دوں کس چیز سے ایک تو ہی دیدہ ہے تیرے سوا نادیدہ ہے
یہاں مرقات نے فرمایا کہدُونبمعنیغیربھی آتا ہے اور بمعنی قریب بھی،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں یعنی تیرے سوا کوئی حقیقی چھپا ہوا نہیں یا کوئی چیز چھپنے میں تجھ سے قریب بھی نہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی بصارت سے چھپا ہے اور بصیرت سے ظاہر یعنی نظر سے چھپنا فکر میں ظاہر۔
۸؎قرض سے مراد مخلوق کا قرض ہے کیونکہ اس قرض سے بہت گناہ پیدا ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ قرض رات کا غم اور دن کی ذلت ہے،فقیری سے مراد مخلوق کی محتاجی ہے یا اس سے دلی فقر مراد ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ فقر کفر تک پہنچادیتا ہے لہذا یہ حدیث نہ اس آیت کے خلاف ہے"وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ" اور نہ اس حدیث کے مخالفالفقر فخری۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2408