Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2389

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» . وَإِذَا أَمْسٰى قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أصبح قال: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير» . وإذا أمسى قال: «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے الٰہی ہم نے تیری مہربانی سے صبح پائی اور تیری مہربانی سے ہی شام کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں گے اور تیرے فضل سے مریں گے ۱؎اور تیری ہی طرف رجوع ہے اور جب شام پاتے تو کہتے الٰہی تیرے فضل سے ہم نے شام پالی اور تیرے فضل سے ہی صبح کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں مریں گے تیری ہی طرف اٹھنا ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ انسان کے مرنے پرتعجب نہیں بلکہ اس کی زندگی حیرت ناک ہے کیونکہ اندرونی اور بیرونی دشمن اتنے ہیں کہ خدا کی پناہ!اتنے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود اس کا زندہ رہنا اللّٰہ کی قدرت ہی ہے۔اس دعائے شریف کا یہی مطلب ہے کہ خدایا تیرے ہی کرم اور مہربانی سے ہم شام سے سویرا پالیتے ہیں اور سویرے سے شام،ہماری زندگی اور موت تیرے ہی قبضہ میں ہے،یہ معنے تو بالکل ظاہر ہیں،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ خدایا ہماری زندگی و موت نفس دنیا یا شیطان کے لیے نہیں بلکہالحمدللّٰہتیر ی عبادت کے لیے ہے۔
۲
؎نشور نشرسے بنا بمعنی پھیلنا،اسی سے ہےمنتشر،چونکہ قیامت کی زندگی پھیلے ہوئے بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کرکے ہوگی اس لیے اس زندگی کونشورکہا جاتا ہے اسی لیے مرقات وغیرہ نے اس کا ترجمہ کیابعث بعد الموت۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں کافر،مؤمن،منافق سب جمع ہیں مگر قیامت میں سب چھٹ جائیں گے کہ حکم ہوگا "وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوۡنَ"اس لیے اس اٹھنے کا نامنشورہے اسی وجہ سے مرقات نے اس کے معنے کیےوالتفرق بعد الجمع۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2389