Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2404

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلٰى فِرَاشِهٖ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰه الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ ذُنُوبَهٗ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ، أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالَجٍ، أَوْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ، أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من قال حين يأوي إلى فراشه: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه، ثلاث مرات، غفر الله له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر، أو عدد رمل عالج، أو عدد ورق الشجر، أو عدد أيام الدنيا". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بستر پر جاتے وقت یہ کہہ لے میں اس اللّٰه سے معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور اس بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۲؎(تین بار کہے)تو اللّٰه اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ سمندر کے جھاگ یا ریگ رواں یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎سوتے وقت یہ دعائیں وا ستغفار اس لیے پڑھائے گئے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہے نہ معلوم اب جاگنا ہو یا نہ ہو لہذا توبہ کرکے سوؤ کہ اگر یہ آخری نیند ہو تو االلّٰہتعالٰی کے نام پر ہو۔شعر
سونے والے اللّٰہ اللّٰه کرکے سو کیا خبر اب جاگنا ہو یا نہ ہو
اس استغفار میں بندے کی اپنی بے بسی اور رب تعالٰی کی انتہائی قدرت و قوت کا اظہار ہے ان دونوں باتوں کا اقرار ہی توبہ کی جان ہے۔
۲
؎اس طرح کہ جو ہوگیا،ہوگیا اب کبھی ایسی حرکت نہ کروں گا،تو کریم و رحیم ہے معافی دے دے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ گناہوں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں۔ممکن ہے کہ گناہ کبیرہ بھی مراد ہوں،اس کی رحمت ہمارے گناہوں سے کہیں زیادہ ہے کہ ہمارے گناہ محدود ہیں رب تعالٰی کی رحمت غیر محدود،ایام دنیا سے مراد اوقات دنیا ہیں یعنی گھنٹے،منٹ اور سیکنڈ۔عالج علجسے بنا بمعنی دخول اس لیے خاص خادم کوعالجکہتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں دخیل ہوتا ہے دوا کرنے کو علاج کہتے ہیں کہ وہ دوا مرض میں یا بدن میں داخل ہو کر اثر کرتی ہے،بہت زیادہ ریتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض ریتہ بعض میں دھنسا جارہا ہے اس لیے اسے عالج کہتے ہیں یہ ریتہ دور سے دریا معلوم ہوتا ہے اسی لیے اس رمل عالج کا ترجمہ ریگ رواں کیا جاتا ہے۔(مرقات مع اضافہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2404