- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2387
باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2387
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهٗ جَاءَهٗ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْهُ فَذَكَرَتْ ذٰلِكَ لِعَائِشَةَ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ: عَلٰى مَكَانِكُمَا فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهٖ عَلٰى بَطْنِي فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلٰى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن علي: أن فاطمة أتت النبي صلى الله عليه وسلم تشكو إليه ما تلقى في يدها من الرحى وبلغها أنه جاءه رقيق فلم تصادفه فذكرت ذلك لعائشة فلما جاء أخبرته عائشة قال: فجاءنا وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا نقوم فقال: على مكانكما فجاء فقعد بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه على بطني فقال: «ألا أدلكما على خير مما سألتما؟ إذا أخذتما مضجعكما فسبحا ثلاثا وثلاثين واحمدا ثلاثا وثلاثين وكبرا أربعا وثلاثين، فهو خير لكما من خادم (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی سے کہ جناب فاطمہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس تکلیف کی شکایت کرنے جوان کے ہاتھ کو چکی سے پہنچتی تھی ۱؎انہیں جب خبر لگی تھی کہ حضور کے پاس غلا م آئے ہیں انہوں نے حضور کو نہ پایا تو حضرت عائشہ سے کہہ آئیں ۲؎جب حضور تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے یہ قصہ عرض کیا۳؎فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم بستر پکڑ چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے تو فرمایا اپنی جگہ رہو تشریف لائے میرے اور فاطمہ زہرا کے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے حضور کے قدم کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی ۴؎فرمایا میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیزنہ بتادوں۵؎جب تم اپنے بستر لو تو ۳۳ بارسُبْحَانَ اللّٰهِپڑھ لو اور ۳۳ بارالحمداللّٰہاور۳۴ باراللّٰهاکبر یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت فاطمہ زہرا حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سب سے چھوٹی پیاری چہیتی صاحبزادی تھیں،شادی سے پہلے کام کاج نہ کیا تھا،حضرت علی کے ہاں آکر تمام کام کرنے پڑے،کام سے کپڑے کالے اور چکی سے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے جو پھوٹ کر زخم بن گئے تھے۔شعر
آئیں جب خاتون جنت اپنے گھر پڑ گئے سب کام ان کی ذات پر
کام سے کپڑے بھی کالے پڑ گئے ہاتھ میں چکی سے چھالے پڑ گئے
۲؎یعنی اس دن حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا قیام حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے گھر تھا اس لیے خاتون جنت انہیں کے گھر تشریف لائیں مگر اتفاقًا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم باہر تھے دولت خانے میں نہ تھے اس لیے والدہ ماجدہ سے عرض کر کے واپس ہو گئیں۔شعر
پر نہ تھے دولت کدہ میں شاہ دیں والدہ سے عرض کرکے آگئیں
خود حضرت علی نے حضرت خاتون جنت کو بتایا تھا کہ آج قیدی غلام حضور کے ہاں آئے ہیں،حضور غلام بانٹ رہے ہیں ایک لونڈی تم بھی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے مانگ لو جو گھر کا کام کاج کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ شادی کے بعد بھی اولاد ماں باپ سے مانگ سکتی ہے،اس میں نہ گناہ ہے نہ شرم۔
۳؎شعر
گھر میں جب آئے حبیب کبریا والدہ نے ماجرا سارا کہا
فاطمہ چھالے دکھانے آئی تھیں گھر کی تکلیفیں سنانے آئی تھیں
ایک لونڈی آپ اگر ان کو بھی دیں چکی اور چولہے کے دکھ سے وہ بچیں
۴؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نہ تو حضرت عائشہ کو کچھ جواب دیا،نہ دن میں حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لائے رات کو سوتے وقت تشریف لائے تو بستر فاطمہ پر اس طرح تشریف فرما ہوئے کہ ایک قدم فاطمہ پر تھا دوسرا جناب علی کے سینہ پر انوار پر،اس سینہ کے قربان جو قدم رسول چومے۔
۵؎یعنی لونڈی خادم کا فائدہ تم کو صرف دنیا میں پہنچے گا مگر اس دعا کا فائدہ دنیا،قبر،حشر ہر جگہ پاؤ گی،حضور نے انہیں خادم کیوں نہ عطا فرمایا۔شعر
شب کو آئے مصطفٰی زہرا کے گھر اور کہا دختر سے اے جان پدر
ہیں یہ خادم ان یتیموں کے لیے باپ جن کے جنگ میں مارے گئے
تم پہ سایہ ہے رسولاللّٰهکا آسرا رکھو فقط اللّٰهکا
۶؎اس کا نام تسبیح فاطمہ ہے جو تمام سلسلوں میں خصوصًا سلسلہ قادریہ میں بہت معمول ہے،اس تسبیح کے لیے عام تسبیحوں میں ہر ۳۳ دانہ پر چھوٹا امام پڑا ہوتا ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو حضرت ابوبکرپر اس لیے طعن کرتے ہیں کہ انہوں نے فاطمہ زہرا کا مطالبہ پورانہ کیا انہیں میراث نہ دی جس سے ان کے دل کو تکلیف پہنچی،وہ آج حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو کیا فتویٰ دیں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2387