Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2407

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ غَنَّامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " من قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اَللّٰهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهٖ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَلَيْلَتِهٖ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن غنام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من قال حين يصبح: اللهم ما أصبح بي من نعمة أو بأحد من خلقك فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر فقد أدى شكر يومه ومن قال مثل ذلك حين يمسي فقد أدى شكرليلته ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن غنام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو صبح کے وقت یہ پڑھے الٰہی تیری جو نعمت مجھے یا تیری کسی مخلوق کو ملی وہ صرف تیرے اکیلے کی طرف سے ہے ۱؎تیرا کوئی شریک نہیں لہذا تیری ہی حمد ہے اور تیرا ہی شکر۲؎تو اس نے آج کے دن کا شکریہ ادا کردیا۳؎اور جو اسی طرح شام کے وقت کہہ لے تو اس نے اس رات کا شکریہ ادا کر دیا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جسے جو دینی یا دنیاوی نعمت ملی بلاواسطہ یا بالواسطہ وہ تیری ہی طرف سے ہے۔اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے "وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰهِ"۔خیال رہے کہ نعمت و مصیبت سب اللّٰه تعالٰی ہی کی طرف سے ہے مگر ادب یہ ہے کہ نعمتوں کو ر ب کی طرف نسبت دو اور مصیبت کو اپنی طرف،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ
۲
؎یعنی حقیقی حمد اور حقیقی شکر تیرے ہی ہیں کہ حقیقی منعم تو ہی ہے،تیرے سواء جس کا بھی شکر و حمد ہوں گے وہ مجازی ہوں گے لہذا یہ دعا قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں"اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡكَ"میرا اور اپنے ماں باپ کا شکر یہ ادا کرو کہ وہاں ماں باپ کا شکریہ مجازی مراد ہے۔
۳
؎یعنی صبح شام اس دعا کے پڑھنے والوں کو توفیق ملے گی کہ رب تعالٰی کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں اور اگر شکریہ میں کچھ کوتاہی ہوگئی تو رب تعالٰی اس کی برکت سے وہ کمی پوری فرمادے گا،یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز،زکوۃ،روزہ کچھ نہ کرو صرف یہ دعا پڑھ لیا کرو کیونکہ ساری عبادتیں رب کا شکریہ ہیں اور شکریہ تو اس دعا سے پورا ہوگیا اب اور شکر کی کیا ضرورت ہے۔غرضکہ حدیث صاف ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ شکریہ دلی بھی ہوتا ہے،زبانی بھی،یہاں شکر سے مراد قولی شکر ہے یعنی ان کلمات میں ایسا ثواب ملے گا جیسے کوئی دن بھر زبانی شکریہ ادا کرتا رہے،رہا عملی شکریہ وہ اس کے علاوہ ہے۔
۴
؎اسے نسائی نے انہی عبداللّٰہ ابن غنام سے روایت کیا اور ابن حبان و ابن سنی نے حضرت ابن عباس سے رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2407