Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2402

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن حَفصةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن حفصة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يرقد وضع يده اليمنى تحت خده ثم يقول: «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» . ثلاث مرات رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حفصہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسارہ کے نیچے رکھتے ۱؎پھر تین بار عرض کرتے خدایا مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم دن میں سوتے یا رات میں سوتے یا بحالت سفر جنگل میں ہمیشہ قبر کے رخ پر لیٹتے تھے،داہنی کروٹ پر قبلہ رو ہو کر اور داہنا ہاتھ داہنے رخسارے کے نیچے ر کھتے اس طرح کہ ہاتھ کا کچھ حصہ سر کے نیچے بھی ہوتا تھا،اسطرح سونا سنت ہے اور یوں ہی دفن بھی کیا جائے تو بہتر۔
۲
؎یعنی قیامت اور بعد قیامت کے عذاب سے بچا کہ اصل عذاب تو وہی ہے،قبر کا عذاب یا نزع کے وقت کا عذاب تو اس عذاب کا پیش خیمہ ہے جو قیامت کے عذاب سے محفوظ ہوگا تو امید ہے کہ ان عذابوں سے بھی بچا رہے گا۔خیال رہے کہ مؤمن کو نزع کی شدت یا قبر کی وحشت عذاب نہیں گنہگار کے لیے عتاب ہے اور نیک کار کے لیے رحمت جیساکہباب عذاب قبرمیں عرض کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2402