Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2403

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهٖ : «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ اَللّٰهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول عند مضجعه : «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامات من شر ما أنت آخذ بناصيته، اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنے لیٹتے وقت کہتے تھے الٰہی میں تیری ذات کریم کی اور تیرے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ۱؎اس کے شرارت سے تو جس کی پیشانی پکڑے ہے۲؎الٰہی تو ہی قرض اور گناہ کو دور کرتا ہے ۳؎الٰہی تیرا لشکر کبھی شکست نہیں پا تا تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۴؎اور تیرے مقابل بختاور کو بخت نفع نہیں دیتا۵؎توپاک ہے اور تیری ہی حمد ہے ۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎وجہسے مراد ذات باری تعالٰی ہے"کُلُّ شَیۡءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗاور کلمات الہیہ سے مراد اس کے اسماء و صفات ہیں یا آیات قرآنیہ،یاکُنفرمانا یعنی میں تیری ذات و صفات آیات کی پناہ لیتا ہوں،چونکہ یہ تمام چیزیں کامل ہیں نقصانات سے پاک اس لیے انہیںتاماتفرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ اللّٰه کے مقبول بندوں خصوصًا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی پناہ لینا بھی جائز ہے کیونکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم بھی کلمات اللّٰه ہیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللّٰه ہیں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کلمات اللّٰه ہیں جیسا کہ"قُلۡ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیۡ"کی تفسیر صوفیانہ میں ہے۔
۲
؎یعنی ساری موذی چیزیں تیرے قبضہ میں ہیں جسے تو بچانا چاہے اسے یہ موذی تکلیف نہیں دے سکتیں،پیشانی پکڑنے سے مراد قبضہ میں ہونا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِھَا
۳
؎ممکن ہے کہ قرض سے مراد اللّٰه تعالٰی کے فرض ہوں جیسے وہ فرض واجب عبادات جو ادا نہ کی گئیں اورماثمسے مراد وہ گناہ ہوں جو نہ کرنے تھے اور کر لیے گئے یامغرمسے مراد وہ ناجائز قرض ہیں جن سے رب ناراض ہے جسے حرام کام میں خرچ کرنے کے لیے قر ض لینا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قرض سے ا تنی پناہ مانگی ہے تو آپ پر قرض کیوں ہوتا تھا حتی کہ وفات کے و قت بھی آپ کی زرہ قرض میں گروی تھی۔بعض قرض ثواب ہیں اور بعض قرض گناہ،قرض گناہ سے پناہ مانگی۔(از مرقات مع زیار ت)یا قرض سے وہ قرض مراد ہے جو ادا نہ ہوسکے،حضور کے تمام قرض ادا ہوگئے حتی کہ حضور کے بعد صدیق اکبر نے ادا کیے۔
۴
؎اللّٰه کے لشکر سے مرا دیا تو فرشتوں کا لشکر ہے یا جانوروں وغیرہ کا وہ لشکر جو عذاب دینے آئے جیسے فیل والوں پر ابابیل یا احزاب کے کفار پر ہوا لشکر یا طوفان نوحی میں پانی کا لشکر یا لشکر سے مراد مؤمن غازیوں کا لشکر ہے جو محض رضائے الٰہی کے لیے جہاد کرے کہ انجام کا رفتح اسی کی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"والعاقبۃ للمتقین" کبھی ان کی شکست ہوتی ہے تو عارضی وہ بھی اپنی کسی غلطی کی وجہ سے،کربلا میں امام حسین کی فتح ہوئی کہ اسلام بچ گیا،حسینی لشکر اللّٰه کا لشکر تھا،نیز ر ب کے وعدہ میں خلاف ناممکن ہے،اس کا وعدہ ہوچکا"اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ
۵
؎جدکے معنی مال بھی ہیں اور بخت و نصیب بھی،دوسرے معنی یہا ں زیادہ موزوں ہیں۔نصیب میں مال،سلطنت،فوج،مکان و قلعہ وغیرہ سب ہی داخل ہیں یعنی جب تو کسی کو پکڑے تو اسے نہ سلطنت بچا سکتی ہے نہ فوج و خزانہ اور قلعہ،تیری پکڑ سے تیری رحمت ہی بچا سکتی ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں چند لوگ حاضر تھے کوئیجدی الامل،کسی نے کہاجدی الرزع،کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ،تب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں سنا کر یہ دعا کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2403