Main Icon

باب: صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2415

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «أَصْبَحْنَا عَلٰى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلٰى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عَلٰى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن عبد الرحمن بن أبزى قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا أصبح: «أصبحنا على فطرة الإسلام وكلمة الإخلاص وعلى دين نبينا محمد صلى الله عليه وسلم و على ملة أبينا إبراهيم حنيفا وما كان من المشركين» . رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابزی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے ہم نے اللّٰہ کے دین پر اور اخلاص کے کلمے پر ۱؎ اور محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے دین پر۲؎ اور اپنے والد حضرت ابراہیم کی ملت پر سویرا پایا حضرت ابراہیم ہر برائی س∞روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابزی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے ہم نے اللّٰہ کے دین پر اور اخلاص کے کلمے پر ۱؎اور محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے دین پر۲؎اور اپنے والد حضرت ابراہیم کی ملت پر سویرا پایا حضرت ابراہیم ہر برائی سے دورتھے مشرکوں سے نہ تھے ۳؎(دارمی)ے دورتھے مشرکوں سے نہ تھے ۳؎ (دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎فطرت کے لغوی معنی ہیں،پیدائش،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡھَا"اور فرماتا ہے"فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ"۔پھر اصطلاح میں پیدائشی حالت کا نام فطرت ہوا،شریعت میں سنت انبیاء کو بھی فطرت کہتے ہیں اور ملت کو بھی، چونکہ اسلام ہی انسان کا پیدائشی دین ہے کہ ہر بچہ ایمان پرپیدا ہوتا ہے،پھر مختلف صحبتیں پا کر مختلف دین اختیار کرتا ہے اس لیے اسے فطرت کہا جاتا ہے یہاں آخری معنی ہی مراد ہے۔
۲
؎یہ فطرت اسلام کا بیان ہے۔لغۃً ہر نبی کا دین اسلام ہے،یعقوب علیہ اسلام نے اپنے فرزندوں سے فرمایا تھا "وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ"اسی لیے فرمایا کہ اسلام سے مراد دین محمدی ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم بھی اسلام پر ہیں اور حضور کی امت بھی مگر حضور اس دین پر ہیں ہم کو چلانے کے لیے،ہم اس راہ پر ہیں چلنے کے لیے،ریلوے لائن پر انجن بھی ہے اور پیچھے والے ڈبے بھی مگر انجن چلانے کے لیے اور ڈبے چلنے کے لیے،رب فرماتا ہے :"اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ"بلکہ اپنے متعلق بھی فرماتا ہے:"اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ"یعنی رب تعالٰی سیدھے راستہ پر ملتا ہے جیسے کہا جاتا ہے لاہور سیدھی سڑک پر۔
۳
؎کفار عرب شرک کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم دین ابرہیمی پر ہیں اس جملہ میں ان کی تردید ہے کہ حضرت ابراہیم تو مشرک نہ تھے تم مشرک ہو پھر تم ان کے دین پر کیسے ہوئے ہم دین ابراہیمی پر ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دین ابرہیمی پر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کا دین ملت ابراہیمی کے مطابق ہے نہ یہ کہ آپ ان کے متبع ہیں۔چنانچہ ختنہ حجامت،قربانی،مہمان نوازی تمام احکامِ ابراہیمی اسلام میں موجود ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2415