Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 782

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِيْ حَثْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهٗ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن سهل بن أبي حثمة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سترے کی طرف نماز پڑھے۲؎تو اس سے قریب رہے شیطان اس کی نماز نہ توڑ سکے گا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں، اوسی ہیں، ۳ ھ میں پیدا ہوئے، آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو عمارہ ہے ،کوفہ قیام تھا، امیر معاویہ رضی الله عنہ کے زمانہ میں وہیں وفات پائی،بہت صحابہ نے آپ سے روایتیں لی ہیں۔۲؎بعض نے فرمایا کہ سترہ سے تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز کے فاصلے پر کھڑا ہو مگر صحیح یہ ہے کہ بقدر سجدہ دور رہے اس کے لیئے حد مقرر نہیں کی جاسکتی کیونکہ بعض لوگ دراز قد ہوتے ہیں،بعض پست قد۔
۳
؎یعنی اس سترے یا قرب کی برکت یہ ہوگی کہ شیطان نماز میں وسوسہ نہ ڈال سکے گا۔معلوم ہوا کہ جیسےبسم اللهکی برکت سے شیطان کھانے سے دور رہتا ہے اور کھلے گھڑے پر لکڑی کھڑی کردینے سے بلائیں دور رہتی ہیں ایسے ہی سترے کی برکت سے نمازی سے شیطان دور رہتا ہےیہ قدرتی چیز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 782