Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 781

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهٖ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصَاهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهٗ عَصَاً فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهٗ مَا مَرَّ أَمَامَهٗ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصاه فإن لم يكن معه عصا فليخطط خطا ثم لا يضره ما مر أمامه» . رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے منہ کے سامنے کچھ رکھ لے ۱؎اگر نہ پائے تو اپنی لاٹھی گاڑھ لے اگر اس کے پاس لاٹھی نہ ہو تو خط کھینچ لے پھر جو چیز سامنے سے گزرے تو اسے نقصان نہ دے گی۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک ہاتھ لمبی اور ایک انگل موٹی کوئی چیزجیسا کہ پچھلی احادیث میں صراحتًا گزر گیا۔بعض نمازی اپنے آگے چاقو یا پیالہ وغیرہ رکھ لیتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں وہ حدیث کا مطلب نہیں سمجھے۔
۲
؎خط کھینچنے کی حدیث مضطرب ہے ضعیف بھی۔دیکھو مرقا ت،لمعات وغیرہ۔اس لیے اکثر علماء نے اس پرعمل نہ کیا وہ خط کومحض بے کار سمجھتے ہیں۔بعض نے فرمایا کہ اس خط کی وجہ سے سامنے گزرنے کا اثر نماز پر نہ ہوگا اس کی نماز خراب نہ ہوگی مگر اس سے گزرنا جائز نہ ہوگا اور گزرنے والا گنہگار بھی ہوگا اسی لیے یہاںلَایَضُرُّہٗفرمایا یعنی نمازی کو مضر نہیں نہ کہ گزرنے والے کو،مگر صحیح قول جمہو ر ہی کا ہے کیونکہ خط نہ تو آڑ بنتا ہے نہ کسی کو نظر ہی آتا ہے تو اس کا ہونا نہ ہونا یکساں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 781