Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 788

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّيْ مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهٖ خَيْرًالَہٗ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن كعب الأحبار قال: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يخسف به خيرالہ من أن يمر بين يديه. وفي رواية: أهون عليه. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب احبار سے فرماتے ہیں اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اس کا زمین میں دھنس جانا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتااور ایک روایت میں ہے کہ آسان ہوتا ۱؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ساری وعیدیں آگےگزرنے سے روکنے کے لیئے ہیں یعنی اگر اس کے عذاب سے پوری واقفیت ہوتی تو ہرشخص یہ چاہتا کہ زمین پھٹ جائے میں سما جاؤں مگر نمازی کے آگے سے نہ گزروں،یہاں گزرنے کی وہی صورت مراد ہے جو ناجائز ہے جن صورتوں میں شریعت نے گزرنے کی اجازت دی ہے وہ اس سے علیٰحدہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 788