Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 776

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ جُحَيْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهٗ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» . قَالَ أَبُو النَّصْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: «أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَو سَنَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي جحيم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» . قال أبو النصر: لا أدري قال: «أربعين يوما أو شهرا أو سنة» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوجحیم سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اسے چالیس تک ٹھہرنا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا ابونصر کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں، ابی ابن کعب کے بھانجے، آپ کا نام عبد الله ابن حارث ابن صمہ انصاری ہے، امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ چالیس سال فرمایا ہوگا جیسا کہ بعض روایا ت میں ہے۔ مطلب اس کا ظاہر ہے۔چالیس کا عدد اس لیئے ارشاد فرمایا کہ انسان کا ہر حال چالیس پر ہی تبدیل ہوتا ہے ،ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ، پھر چالیس دن تک خون ،پھر چالیس دن تک جمی بوٹی، پھر پیدائش کے بعد چالیس دن تک ماں کو نفاس،پھر چالیس سال تک عمر کی پختگی اسی لیئے بعد وفات چالیس روز تک مسلسل فاتحہ کی جاتی ہے اور چالیسویں کی فاتحہ اہتمام سے ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 776