Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 773

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِيْ قُبَّهٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُوْنَ ذَالِك الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهٖ وَمَن لَّمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهٖ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا صَلّٰى إِلَى العَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَّابَ يَمُرُّوْنَ بَينَ يَدَيْ اَلْعَنَزَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي جحيفة قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة وهو بالأبطح في قبه حمراء من أدم ورأيت بلالا أخذ وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأيت الناس يبتدرون ذالك الوضوء فمن أصاب منه شيئا تمسح به ومن لم يصب منه أخذ من بلل يد صاحبه ثم رأيت بلالا أخذ عنزة فركزها وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في حلة حمراء مشمرا صلى إلى العنزة بالناس ركعتين ورأيت الناس والدواب يمرون بين يدي العنزة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن ابی جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو مکے کے ابطح مقام میں ۲؎ چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے حضور کے وضوء کا پانی لیا ۳؎اور لوگوں کو دیکھا اس پانی کی طرف دوڑ رہے ہیں ۴؎جس نے اس میں سے کچھ پالیا تو اسے مَل لیا اور جس نے نہ پایا تو اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری ۵؎لے لی پھر میں نے حضرت بلال (رضی الله عنہ) کو دیکھاانہوں نے ایک نیزہ لیا اور اسے گاڑ دیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم سرخ جوڑے میں دامن سمیٹے تشریف ۶؎لائے نیزے کی طرف کھڑے ہو کرلوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں ۷؎اور میں نے لوگوں اور جانوروں کو نیزے کے آگے گزرتے دیکھا ۸؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام وہب ابن عبد الله عامری ہے،آپ بہت نو عمر صحابی ہیں،حضور کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے، ۷۴ھ کوفہ میں وصال ہوا۔۲؎یہ جگہ جنت معلی سے کچھ آگے منی کی جانب ہے جسے وادیمُحَصَّبْاور بطحاءبھی کہا جاتا ہے،اسی نسبت سے حضور کوابطحیکے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے،ابطح کے معنی ہیں بجری والا میدان جہاں بارش میں سیلاب آجاتا ہو۔
۳
؎یعنی حضور (صلی الله علیہ وسلم) نے خیمہ میں وضو کیا،غسالہ ایک لگن میں گرا حضرت بلال وہ پانی کا لگن باہر صحابہ کے پاس لائے تاکہ صحابہ اس سے برکتیں حاصل کرلیں،صحابہ کرام رضی الله عنھم اس غسالہ شریف پر ٹوٹ پڑے۔
۴
؎اسے حاصل کرنے اور برکت لینے کے لیے کیوں کہ وہ پانی حضور کے اعضاء سے لگ کر نورانی بھی ہوگیا اور نور گر بھی۔پھول سے لگی ہوئی ہوا دماغ مہکادیتی ہے، حضور کے جسم اطہر سے لگا ہوا پانی روح وا یمان مہکادے گا۔
۵
؎اور اسے اپنے سر اور منہ پر مل لیا۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ حضرت ابو طیبہ (رضی الله عنہ) نے حضور کی فصد لی اور خون بجائے پھینکنے کے پی لیا۔خیال رہے کہ ہمارا فضلہ وضو کا پینے کے قابل نہیں کہ وہ ہمارے گناہ لے کر نکلا ہے، حضور کا غسالہ متبرک ہے کیونکہ وہ نور لے کر نکلا۔بعض مرید اپنے مشائخ کا جوٹھا پانی تعظیم سے استعمال کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
۶
؎سرخ جوڑے سے مراد خالص سرخ رنگ میں رنگا ہوا کپڑا نہیں ہے کہ یہ تو مرد کےلیے منع ہے بلکہ سرخ خطوط سے مخطط کپڑا مراد ہے یا سرخ سُوت سے بنا ہوا کپڑا۔لہذا یہ حدیث ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۷
؎یا فجر یا ظہر کی کیونکہ آپ مسافر تھے،غالبًا یہ واقعہ حجۃ الوداع یا عمرۃ القضاء کا ہے۔
۸
؎کیونکہ امام کا سُترہ ساری جماعت کا سترہ ہوتا ہے اس کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 773