Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 783

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلٰى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهٗ عَلٰى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدْ لَهٗ صَمْدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن المقداد بن الأسود قال: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى عود ولا عمود ولا شجرة إلا جعله على حاجبه الأيمن أو الأيسر ولا يصمد له صمدا. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقداد بن اسود سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے نہ دیکھا مگر آپ اسے اپنی داہنی یا بائیں بھوؤں کے سامنے رکھتے تھے ۱؎اور بالکل اس کے سامنے نہ ہوتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎فقہاء فرماتے ہیں کہ سترہ نمازی کے سامنے نہ ہو بلکہ قدرے دائیں بائیں ہٹا ہو اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲
؎یعنی سترے کو ناک کے مقابل نہ رکھتے تاکہ بت پرستوں کی مشابہت نہ ہوجائے کیونکہ وہ پوجا کے وقت بت بالکل سامنے رکھتے ہیں اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن چونکہ فضائل کی ہے لہذا قبول ہے ۔نسائی میں ہے کہ سترہ بائیں پلک پر رکھا جائے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ داہنے سے بائیں پلک پر رکھنا افضل ہے ،سترہ چونکہ شیطان کو دفع کرنے کے لیے ہے اور شیطان بائیں سمت ہی سے آتا ہے اسی لیے اگر نماز میں تھوکنا پڑ جائے تو بائیں طرف تھوکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 783