Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 787

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهٗ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهٗ مِنَ الْخُطُوَةِ الَّتِي خَطَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو يعلم أحدكم ما له في أن يمر بين يدي أخيه معترضا في الصلاة كان لأن يقيم مائة عام خير له من الخطوة التي خطا» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اسے اپنے بھائی کے سامنے گزرنے میں نماز کا راستہ کاٹتے ہوئے کیا گناہ ہے تو سو سال ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس ایک قدم ڈالنے سے بہتر ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے جہاں صرف چالیس کا ذکر تھا سال یا مہینے کا ذکر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ وہاں بھی سال ہی مراد تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے بیٹھا رہنا یا آکر بیٹھ جانا یا بیٹھے سے اٹھ جانا یاسیدھا سامنے چلا جانا منع نہیں بلکہ سامنے کی سمت کاٹ کر گزرنا منع ہے،یعنی ہمارے ملک میں جنوبًا شمالًا جانا جیسا کہ معترضًا سے معلوم ہوا۔البتہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے آکر بیٹھ جائے پھر کچھ ٹھہرکر دوسری جانب اٹھ جائے تو مکروہ ہے بلکہ ادھر ہی کو جائے جدھر سے آیا تھا۔حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے انسان کو چاہیے کہ نمازی کے آگے سے ہرگز نہ گزرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 787