Main Icon

باب:سترہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 774

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهٗ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَادَ الْبُخَارِيُّ قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ. قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهٗ فَيُصَلِّي إِلٰى اٰخِرَتِهٖ

وعن نافع عن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعرض راحلته فيصلي إليها.(متفق عليه)وزاد البخاري قلت: أفرأيت إذا هبت الركاب. قال: كان يأخذ الرحل فيعدله فيصلي إلى اخرته

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع (رضی الله عنہ) سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے کرلیتے پھر اس کی طرف نماز پڑھ لیتے ۱؎ (مسلم،بخاری) بخاری نے یہ بھی زیادہ کیا میں نے کہا بتاؤ تو اگر سواری چل دیتی فرمایا کجاوے کو درست کرلیتے تھے پھر اس کی پشتی کی طرف نماز پڑھتے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ بیٹھے ہوئے اونٹ کے سامنے نماز پڑھتے تاکہ لوگ اس طرف سے گزر سکیں۔ معلوم ہوا کہ سترہ صرف لکڑی وغیرہ کا ہی نہیں ہوتا بلکہ جانور اور انسان کا بھی ہوجاتا ہے۔
۲
؎یعنی نافع نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ نماز کی یہ صورت خطرناک ہے اگر دوران نماز میں اونٹ اٹھ کر چل دے تو نمازی کیا کرےتو فرمایا سرکار پہلے سے اس کا انتظام کرلیتے تھے جس سے اونٹ نہ جاسکے۔آخرہ اور موخرہ کجاوے کی وہ پچھلی لکڑی ہے جس سے سوار پیٹھ ٹیک لیتا ہے۔یہ ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے اسے ہمارے عرف میں اونٹ والے پشتی کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 774