Main Icon

باب:وعدے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4880

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَسْمَاءِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهٗ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهٗ أَنْ آتِيَهٗ بِهَا فِي مَكَانِهٖ فَنَسِيْتُ فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهٖ فَقَالَ: لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن أبي الحسماء قال: بايعت النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يبعث وبقيت له بقية فوعدته أن آتيه بها في مكانه فنسيت فذكرت بعد ثلاث فإذا هو في مكانه فقال: لقد شققت علي أنا ههنا منذ ثلاث أنتظرك . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن ابی الحسماء سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ظہور سے پہلے حضور سے خرید و فروخت کی ۲؎اورآپ کا کچھ بقایا رہ گیا میں نے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ وہ چیز لاتا ہوں پھر میں بھول گیا تین دن کے بعد مجھے یاد آیا تو حضور انور اس جگہ تھے ۳؎فرمایا کہ تم نے مجھ پر مشقت ڈال دی میں تین دن سے یہاں ہی تمہارا انتظار دیکھ رہا ہوں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ آپ کا نام عبداللہ ابن الحمساء ہے یعنی میم سین سے پہلے ہے مصابیح میں حسماء لکھا گیا ہے،آپ عامری ہیں،مکی ہیں مگر بصریٰ میں قیام رہا۔(اشعہ)۲؎یہ بیع معاوضہ تھی یعنی سامان کے عوض سامان کی اس لیےبایعتباب مفاعلت سے فرمایا۔(مرقات)یہ واقعہ ظہور نبوت سے پہلے کا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت کس شان کی تھی اور نبوت کے ظہور سے پہلے کیسے سچے تھے۔
۳
؎عبداللہ نے حضور سے عرض کیا تھا کہ آپ کا بقایا اسی جگہ لاتا ہوں حضور مجھے یہاں ہی ملیں حضور انور نے قبول فرمالیا تھا کہ تم کو یہاں ہی ملوں گا یہ ملنے کا وعدہ حضور کی طرف سے ہوا تھا لہذا حدیث واضح ہے اس پر اعتراض نہیں کہ حضور نے تو کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔
۴
؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہاں ٹھہرنا اپنا مال لینے کے لیے نہ تھا اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے تھا مال تو ان کے گھر جاکر بھی وصول کیا جاسکتا تھا۔سچ اور وعدہ پورا کرنا تمام نبیوں کی سنت ہے،اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرماتاہے:"وَ اِبْرٰھِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی"اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے فرماتاہے: "اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4880