Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 457

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّيْ كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ . وَرَوَى الدَّارمِيُّ نَحْوَهٗ

عن ابن عباس قال اغتسل بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في جفنة فأراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتوضأ منه فقالت يا رسول الله إني كنت جنبا فقال إن الماء لا يجنب . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه . وروى الدارمي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے لگن میں غسل کیا ۱؎حضور نے ا س سے وضو کرنا چاہا انہوں نے عرض کیا یارسول الله میں ناپاک تھی۔فرمایا پانی تو ۱؎ناپاک نہیں ہوتا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)دارمی نے اس کی مثل

شرح حدیث

۱∞؎وہ بیوی حضرت میمونہ تھیں۔اور لگن میں غسل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پانی لے کر غسل کیا نہ کہ اس میں بیٹھ کر یعنی بقیہ پانی حضرت میمونہ کا فضالہ تھا غسالہ نہ تھا۔
۲
؎یعنی عورت کے فضالے سے مرد وضو وغسل کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ تیسری فصل میں اس سے ممانعت بھی آرہی ہے مگر وہ ممانعت بیان کراہت کے لئے ہے اور یہ حدیث بیان جوا زکے لیے یعنی عورت کے فضالے سے مرد کا وضو یا غسل کرنا بہتر نہیں لیکن اگر کرے تو جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 457