Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 470

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ رَافِعٍ قَالَ: إنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلٰى نِسَائِهٖ، يَغْتَسِلُ عِنْدَ هٰذِهٖ، وَعِنْدَ هٰذِهٖ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهٗ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أَلَا تَجْعَلُهٗ غُسْلًا وَاحِدًا آخِرًا؟ قَالَ: "هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي رافع قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم- طاف ذات يوم على نسائه، يغتسل عند هذه، وعند هذه، قال: فقلت له: يا رسول الله ألا تجعله غسلا واحدا آخرا؟ قال: "هذا أزكى وأطيب وأطهر". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں پردورہ فرمایا ان کے پاس بھی غسل کیا اور انکے پاس بھی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کرلیتے فرمایا کہ یہ خوب پسندیدہ اور بہت صاف ہے۲؎(احمدوابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام اسلم ہے کنیت ابو رافع،قبطی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام ہیں،بدر کے سوا تمام غزوات میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی خبر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو انہی نے پہنچائی اور اسی خوشی میں حضور ﷺ نے انہیں آزاد کیا۔ان کے باقی حالات پہلے گزر چکے ہیں۔
۲
؎چونکہ ہر دفعہ غسل کے لئے ابو رافع ہی پانی لاتے ہوں گے،اس لئے انہیں اندازے سے پتا لگا کہ آپ ہر بار غسل جنابت فرمارہے ہیں۔تب یہ سوال کیا اس قسم کے اظہار میں اور مسئلہ پوچھنے میں نہ عقلًا کوئی مضائقہ ہے نہ شرعًا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل شریف سے مسائل معلوم ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر چند بار صحبت کی جائے تو ہر دفعہ نہالینا سنت ہے۔باقی بحث اسی باب میں پہلے گزرچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 470