Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 459

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِيْ قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهٗ. وَفِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" بِلَفْظِ "الْمَصَابِيْحِ".

وعن عائشة قالت: كان رسول اللہ-صلى الله عليه وسلم- يغتسل من الجنابة ثم يستدفئ بي قبل أن أغتسل. رواه ابن ماجه، وروى الترمذي نحوه. وفي "شرح السنة" بلفظ "المصابيح".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنابت سے غسل فرماتے پھر میرے غسل سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎اسے ابن ماجہ نے روایت کیااورترمذی نے اس کی مثل روایت کی اورشرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ میرے ساتھ بستر میں لیٹ جاتے اور بغیر کپڑے وغیرہ کی آڑ کے اپنا جسم پاک مجھ سےمسفرماتے۔اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کاجسم پاک ہے اوراس سے معانقہ جائز۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 459