Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 462

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجِّهُوْا هٰذِهِ الْبُيُوْتَ عَنِ الْمَسْجدِ، فَإِنِّيْ لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "وجهوا هذه البيوت عن المسجد، فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان گھروں کو مسجدسے پھیردو ۱؎کیونکہ میں حائضہ اورجنبی کے لیئے مسجد کو حلا ل نہیں کرتا۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اولًابعض صحابہ کے گھر کے درازے مسجد نبوی شریف میں تھے جن کی وجہ سے گھروں میں آنا جانا مسجد کے راستے سے ہوتا تھا۔حکم دیا کہ ان گھروں کے دروازے اورطرف نکالو یہ موجودہ دروازے بندکردو۔
۲
؎یعنی اگر دروازے مسجد میں رہے تو جنبی،حائضہ،نفساء مسجد سے گزریں گے حالانکہ انہیں مسجد میں بیٹھنا بھی حرام ہے۔یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔امام شافعی وغیرہم کے ہاں مسجد سے گزرنا جائز ہے،وہاں ٹھہرنا حرام ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔قرآن کریم میں جو ارشاد ہوا"وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ"وہاں"عابریسبیل"سے مراد مسافر ہے،یعنی جنابت کی حالت میں بغیرغسل نماز کے قریب نہ جاؤ ہاں اگرمسافرہو اورپانی نہ پاؤ تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو وہاں مسجد سے گزرنا مراد نہیں،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ الله تعالٰی نے حضورکو مالک احکام بنایا ہے فرماتے ہیں میں حلال نہیں کرتا۔معلوم ہوا کہ حلال وحرام حضورکرتے ہیں(صلی اللہ علیہ وسلم)۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 462