Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 463

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة ولا كلب ولا جنب". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں تصویرہو اور نہ اس میں جس میں کتا اورجنبی ہو ۱؎(ابو داؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جو بلا ضرورت حرمت و عزت سے رکھی جائے۔اورکتے سے مرادبلا ضرورت محض شوقیہ طور پر پالا ہوا کتاہے۔جنبی سے مراد وہ شخص ہے جوبلاضرورت شرعیہ بےغسل رہا کرے۔لہذا حدیث پر نہ تویہ اعتراض ہے کہ کبھی روپیہ پیسہ میں فوٹو ہوتے ہیں جو ہرگھر میں رہتے ہیں،نہ یہ کہ کھیتی یا گھر بار کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے،نہ یہ کہ رات کو جنبی وضو کرکے رات گزار سکتا ہے،نہ یہ کہ اگر ان گھروں میں فرشتے نہیں آتے تو ان لوگوں کی حفاظت یانامۂ اعمال کی تحریر کون کرتا ہے یا ان کی جان کون نکالے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 463