- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- حدیث نمبر 466
باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 466
پاکی کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ نافِعٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِيْ حَاجَةٍ فَقَضٰى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهٗ، وَكَانَ مِنْ حَدِيْثِهٖ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ فِيْ سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، فَلَقِيَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتّٰى إذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارٰى فِي السِّكَّةِ، ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهٗ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرٰى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ: "إِنَّهٗ لَمْ يَمْنَعْنِيْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّيْ لَمْ أَكُنْ عَلٰى طُهْرٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وعن نافع قال: انطلقت مع ابن عمر في حاجة فقضى ابن عمر حاجته، وكان من حديثه يومئذ أن قال: مر رجل في سكة من السكك، فلقي رسول الله صلى الله عليه وسلم- وقد خرج من غائط أو بول، فسلم عليه فلم يرد عليه، حتى إذا كاد الرجل أن يتوارى في السكة، ضرب رسول الله -صلى الله عليه وسلم بيديه على الحائط ومسح بهما وجهه، ثم ضرب ضربة أخرى فمسح ذراعيه، ثم رد على الرجل السلام وقال: "إنه لم يمنعني أن أرد عليك السلام إلا أني لم أكن على طهر". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت نافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ کسی کام میں گیا حضرت ابن عمرنے اپنی حاجت پوری کرلی۲؎اور آپ کی اس دن کی حدیث یہ تھی کہ فرمایا ایک آدمی گلیوں میں سے کسی گلی میں گزرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ملاقات ہوگئی۳؎حالانکہ آپ پاخانہ یا پیشاب سے آئے تھے۴؎اس نے سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا۔حتی کہ وہ شخص جب گلی میں چھپ جانے کے قریب ہوا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے جن سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوبارہ ہاتھ مارے اور اپنے ہاتھوں پر پھیر ے پھر اس شخص کا جواب دیا۵؎اورفرمایا کہ مجھے تمہارے جواب دینے میں رکاوٹ صرف یہ تھی کہ میں پاک نہ تھا۶؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎پہلے بتایا جاچکا ہے کہ حضرت نافع سیدناعبد الله ابن عمر کے آزادکردہ غلام ہیں،تابعین میں سے ہیں،ویلم کے رہنے والے، ۱۱۷ھمیں وفات پائی،بڑے عالم متقی تھے۔
۲؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں حاجت سے مرادکوئی ضروری کام ہے نہ کہ استنجاءجیساکہ بعض لوگوں نے سمجھایعنی آپ کسی کام کے لیے گئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔
۳؎یعنی اتفاقًا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات ہوگئی اس وقت ملاقات کا ارادہ نہ تھا۔
۴؎ظاہر یہ ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام پیشاب یاپاخانہ سے بالکل فارغ ہوکرتشریف لائے تھے یعنی ڈھیلے پانی کا استنجاءبھی کرچکے تھے کیونکہ عادت کریمہ یہ نہیں تھی کہ پیشاب پاخانہ کے بعد ڈھیلے سے استنجاءکرتے ہوئے بازاروں یا گلیوں میں چلیں،بلکہ خاص موقعہ پر ہی خشک کرلیتے تھے کہ اس طرح چلنامروت کے خلاف ہے۔
۵؎جب اس شخص نے سلام کیا توکوئی لائق تیمم دیوار سامنے موجود نہ تھی۔اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دیوار تک پہنچے اتنے میں وہ شخص گلی کے کنارے پرپہنچ گیا،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فورًا ہی تیمم کیوں نہ کرلیا۔اس سے معلوم ہوا کہ کچی دیوار پرتیمم جائز ہے،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔تیمم کے لئے صرف ریت یا خشک مٹی ضروری نہیں۔
۶؎یعنی میں اس وقت بے وضو تھا اور جواب میں کہنا ہوتا ہے "وعلیکم السلام"سلام الله تعالٰی کا نام بھی ہے اگرچہ یہاں وہ معنی مراد نہیں پھر بھی اس لفظ کا احترام کرتے ہوئے میں نے بغیر وضو یہ لفظ بولنا مناسب نہ سمجھا۔حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر خاص انوار الہیہ کی تجلی ہورہی تھی جس کا اثر یہ تھا کہ آپ نے بغیر طہارت سلام کا لفظ بھی منہ سے نہ نکالا،یہ خصوصی حکم ہے،لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پاخانے سے آکر قرآن پڑھاتے تھے،دعائیں پڑھتے تھے،وضو سے پہلےبسم اﷲپڑھتے تھے اوریہاں بغیر وضو سلام کا لفظ بھی نہیں بولتے،کہ وہ عام حکم شرعی تھا اور یہ حکم خصوصی۔شریعت وطریقت،فتویٰ وتقویٰ میں فرق ہے۔نہ یہ اعتراض ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے تیمم درست نہیں ہوتا،پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تیمم کیوں کیا؟اس تیمم سے نماز وغیرہ نہ پڑھی صرف جواب سلام دیا،نماز جنازہ جارہی ہو تو پانی کے ہوتے تیمم جائز ہے مگر اس سے دوسری نماز نہیں پڑھ سکتے۔یہاں بھی جواب کا وقت جارہا تھا،آدمی چھپا جارہا تھا اس لیے یہ عمل فرمایا۔غرض کہ یہ حدیث بےغبار ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جواب سلام میں دیر لگاناضرورۃً جائز ہے اور اس دیر لگ جانے پر معذرت کردینا سنت ہے تاکہ اس کو رنج نہ ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 466