Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 471

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَزَادَ: أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

وعن الحكم بن عمرو قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتوضأ الرجل بفضل طهور المرأة. رواه أبو داود وابن ماجه والترمذي وزاد: أو قال: بسؤرها، وقال: هذا حديث حسن صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حکم ابن عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں کہ منع فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہ مرد وعورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) اورترمذی نے ان دونوں سے زیادہ کیافرمایاعورت

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،غفاری ہیں،بصرہ میں قیام رہا،زیاد نے پہلے آپ کو بصرہ کا،پھر خراسان کا حاکم بنایا، ۵۱ھمقام مرہ میں آپ کا انتقال ہوا۔
۲
؎یہ ممانعت تنزیہی ہے یعنی عورت کے غسل یا وضو سے بچے ہوئے پانی سے مرد کا غسل یا وضو کرنا بہتر نہیں،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باراپنی بعض ازواج کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا اورفرمایا کہ پانی جنب نہیں ہوتاکیونکہ وہ حدیث بیان جواز کے لئے ہے اور یہ بیان استحباب کے لئے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 471