Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 455

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلٰى نِسَائِهٖ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يطوف على نسائه بغسل واحد. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غسل سے اپنی ساری بیویوں پر دورہ فرماتے تھے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی چندبیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اورسب سے آخر میں غسل فرماتے۔ظاہر یہ ہے کہ درمیان میں وضو فرماتے ہوں گے۔ خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج حضرت خدیجہ،عائشہ،حفصہ،ام حبیبہ،ام سلمہ،سودہ،زینب،میمونہ ام مساکین،جویریہ،صفیہرضی اللہ عنھن ہیں۔جن میں حضرت خدیجہ کی موجودگی میں کسی سے نکاح نہ فرمایا۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس جنتیوں کی طاقت دی گئی اور ایک جنتی میں سَومردوں کی طاقت ہوگی لہذا حضورمیں چار ہزار مردوں کی طاقت تھی،نیز آپ کے ذمہ بیویوں کے درمیان عدل واجب نہ تھا اپنی طرف سے عدل فرماتے تھے اسی لیے ایک شب میں تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے ورنہ ہم کو ایک کی باری میں دوسری کے پاس جانا درست نہیں۔بعض نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باری والی کی اجازت سے یہ عمل فرماتے ہوں گے مگریہ درست نہیں۔(ازمرقاۃ وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 455